Tashakur News

کراچی: ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں 281 فائلوں کی مبینہ ٹیمپرنگ کا معاملہ پھر سرخیوں میں، تحقیقات تاحال التواء کا شکار

کراچی میں ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (MDA) سے متعلق مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں اور ریکارڈ ٹیمپرنگ کا معاملہ ایک بار پھر منظرِ عام پر آ گیا ہے، جس میں 281 فائلوں میں مبینہ ردوبدل، متنازع سروس ریکارڈ اور مختلف سرکاری اداروں کے متضاد مؤقف نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

کراچی: ٹریفک پولیس کا “روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ” قائم کرنے کا فیصلہ، شہریوں کی رہنمائی اور فوری مدد کو یقینی بنایا جائے گا

سرکاری دستاویزات اور محکمانہ خط و کتابت کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ نے لینڈ مینجمنٹ ریکارڈ میں 281 فائلوں میں مبینہ ٹیمپرنگ کے شبے پر انکوائری شروع کی تھی۔ مراسلوں میں بعض افسران کے نام سامنے آئے اور متعلقہ ریکارڈ طلب کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن نے معاملے کو انتہائی حساس اور ہنگامی نوعیت کا قرار دیا، تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود تحقیقات کا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔

دوسری جانب ایم ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان سروس اسٹیٹس اور پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ سے متعلق اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض خطوط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ متعلقہ افسر کا اصل تعلق کسی اور ادارے سے ہے، جبکہ متعلقہ ادارے کی جانب سے سروس ریکارڈ کو نامکمل اور متنازع قرار دیا گیا۔

سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مؤقف کے مطابق متعلقہ فرد کو 2009 میں عارضی بنیادوں پر تعینات کیا گیا تھا اور بعد ازاں ریکارڈ میں کئی ابہامات سامنے آئے۔

اداروں کے متضاد مؤقف اور نامکمل ریکارڈ کے باعث معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، جبکہ بعض حصے عدالتی کارروائی کا بھی حصہ بتائے جا رہے ہیں۔

اہم سوالات بدستور جواب طلب ہیں
281 فائلوں میں مبینہ ٹیمپرنگ کا حتمی نتیجہ کیا نکلا؟
اداروں کے متضاد دعوؤں کی اصل حقیقت کیا ہے؟
اور طویل عرصے سے زیرِ التواء تحقیقات کب مکمل ہوں گی؟

قانونی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک انتظامی تنازع نہیں بلکہ سرکاری ریکارڈ کے تحفظ اور احتسابی نظام کی مؤثریت کا بڑا امتحان بن چکا ہے۔

تاحال کسی فریق کے خلاف حتمی عدالتی یا تحقیقاتی فیصلہ سامنے نہیں آیا، جبکہ تمام دعوے اور اعتراضات زیرِ تحقیق ہیں۔

Exit mobile version