کراچی: ضلع ملیر کے اہم سفری و تجارتی روٹ مہران ہائی وے پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کی مبینہ دادا گیری، بھتہ خوری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں، 27 افراد حفاظتی تحویل میں
مقامی ذرائع اور شہریوں کے مطابق ہائی وے پر مبینہ طور پر غیر قانونی رکشہ اسٹینڈز قائم ہیں، جہاں فی رکشہ روزانہ 300 روپے تک وصولی کی جاتی ہے۔ الزام ہے کہ یہ وصولی بعض ٹریفک اہلکاروں کی مبینہ سرپرستی میں کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہیوی گاڑیوں کی غیر قانونی پارکنگ بھی معمول بن چکی ہے، جس کے باعث ٹریفک جام اور حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑک کے دونوں اطراف ٹرالرز اور ٹینکرز کی غیر قانونی پارکنگ سے آمدورفت شدید متاثر ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک رکشہ ڈرائیور کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے، جس میں اس نے الزام لگایا ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں نے اس سے 25 ہزار روپے رشوت وصول کی اور اس کا شناختی کارڈ بھی اپنے پاس رکھ لیا۔ متاثرہ شخص کے مطابق اسے مزید رقم کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔
شہریوں اور رکشہ یونینز نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کا بنیادی کام ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا ہے، تاہم مہران ہائی وے پر صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔
مقامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری انکوائری کی جائے، غیر قانونی رکشہ اسٹینڈز کا خاتمہ کیا جائے اور شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

