کراچی: پاکستان کے معاشی حب اور دو کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کراچی میں پانی کا بحران تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ گیا ہے، مگر سندھ حکومت، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور دیگر متعلقہ ادارے تاحال مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ ایک ماہ سے پانی کی شدید قلت برقرار ہے جبکہ شہری شدید گرمی اور عیدالاضحیٰ کی آمد کے باوجود بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔
کراچی بدترین پانی بحران کی لپیٹ میں، ٹینکر مافیا سرگرم، شہری شدید اذیت میں مبتلا
شہر کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق دھابیجی واٹر سپلائی لائن میں خرابی اور اس کی مرمت مکمل ہونے کے باوجود پانی کی فراہمی معمول پر نہ آسکی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری دعووں کے برعکس نلکوں میں پانی نہیں پہنچ رہا جبکہ ٹینکر مافیا کی سرگرمیاں پہلے سے زیادہ تیز ہوچکی ہیں۔
عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ کراچی میں پانی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ٹینکر مافیا کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صرف ایک ماہ کے دوران کروڑوں روپے کا کاروبار کیا گیا۔ کئی علاقوں میں ایک ایک ٹینکر ہزاروں روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ غریب اور متوسط طبقہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔
شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر دھابیجی لائن کی مرمت مکمل ہوچکی ہے تو پھر کراچی کا پانی کہاں جا رہا ہے؟ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو ایک ماہ گزرنے کے باوجود پانی کی فراہمی بحال نہیں ہونے دے رہے؟ کیا شہر کے حصے کا پانی ٹینکر مافیا کے ذریعے فروخت کیا جا رہا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب کوئی ادارہ دینے کو تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے بعض شعبوں خصوصاً پانی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کئی مواقع پر پانی مقررہ شیڈول کے مطابق فراہم کرنے کے بجائے کئی کئی گھنٹے تاخیر سے چھوڑا جاتا ہے، جس کے باعث شہری علاقوں تک پانی کی رسائی متاثر ہوتی ہے۔ اگر پانی رات 9 بجے فراہم ہونا ہے تو پھر رات 12 بجے تک تاخیر کیوں کی جاتی ہے؟ ان تین گھنٹوں کے دوران پانی کہاں جاتا ہے؟ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اس پورے نظام کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔
حیران کن امر یہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر متعدد مرتبہ بجلی کی بندش اور فنی خرابیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ 30 مئی 2026 کو بھی کے الیکٹرک کے ٹرانسفارمر میں فنی خرابی کے باعث 21 میں سے 10 پمپنگ یونٹس بند ہوگئے اور کراچی کی پانی سپلائی ایک بار پھر متاثر ہوگئی۔ شہری سوال کرتے ہیں کہ آخر کراچی کے پانی کا نظام بار بار انہی خرابیوں کا شکار کیوں ہوتا ہے؟ اور اگر یہ خرابیاں معمول بن چکی ہیں تو متبادل انتظامات کیوں موجود نہیں؟
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر ذمہ دار حکام کی خاموشی نے شہریوں کی تشویش میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ شدید گرمی، پانی کی قلت اور عیدالاضحیٰ جیسے اہم موقع پر بھی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے بیانات اور دعووں تک محدود رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سندھ اسمبلی میں پانی کے بحران پر احتجاج اور “پانی دو، پانی دو” کے نعرے تو سنائی دیتے ہیں، لیکن کراچی کے عوام کا کہنا ہے کہ اسمبلی کے اندر کی جانے والی سیاست سے زیادہ ضرورت عملی اقدامات کی ہے کیونکہ شہر کے لاکھوں شہری آج بھی پانی کی ایک ایک بوند کے لیے پریشان ہیں۔
شہریوں، سماجی تنظیموں اور مختلف حلقوں نے قومی احتساب بیورو (نیب)، اینٹی کرپشن سندھ، وفاقی تحقیقاتی ادارے اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں پانی کی قلت، ٹینکر مافیا کی غیر معمولی سرگرمیوں، پانی کی تقسیم کے نظام اور گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہونے والے کروڑوں روپے کے کاروبار کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
کراچی کے عوام کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور شفاف اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران صرف پانی کی قلت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ شہریوں کا سرکاری اداروں پر اعتماد بھی مزید مجروح ہوگا۔ شہری پوچھ رہے ہیں کہ آخر کراچی کو اس کے حصے کا پانی کب ملے گا اور اس بحران کا ذمہ دار کون

