افغان طالبان حکومت پر عالمی سطح پر اعتراضات میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے یورپی یونین سے طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی و سفارتی روابط قائم نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت پاکستان مخالف بیانیے کے ذریعے داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے: تجزیہ
انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس سمیت 82 عالمی تنظیموں نے طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان افغانستان کے عوام کے نمائندہ نہیں اور نہ ہی وہ کسی شفاف یا جمہوری عمل کے تحت اقتدار میں آئے ہیں۔
تنظیموں کے مطابق عالمی عدالت انصاف کی جانب سے صنفی مظالم پر دو سینیئر طالبان رہنماؤں کے وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ طالبان کے متعدد ارکان یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یورپی سرزمین پر طالبان سے سرکاری سطح پر رابطہ نہ صرف قانونی و سیاسی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے بلکہ اسے غیر رسمی طور پر حکومت کی تسلیم شدگی کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق غیر منتخب طالبان حکومت کو سفارتی گنجائش دینا افغانستان کے عوام خصوصاً خواتین کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور اس سے ان کی آواز مزید دبنے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک انسانی حقوق اور عالمی وعدوں کی پاسداری نہیں ہوتی، طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا مشکل ہے۔

