وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے مستحق صارفین کو سبسڈی بدستور فراہم کی جائے گی اور اس نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے تمام بجلی میٹرز کو QR کوڈ سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
گلستانِ جوہر میں مبینہ ڈکیتی کی واردات، ایک ملزم گرفتار، ساتھی فرار
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پروٹیکٹڈ صارفین کی سبسڈی ختم نہیں کر رہی بلکہ اسے زیادہ منظم اور شفاف بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت 2 کروڑ 15 لاکھ صارفین سبسڈی سے مستفید ہو رہے ہیں اور تمام ڈیٹا QR کوڈ سسٹم کے ذریعے مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ حقیقی مستحقین کو ہی فائدہ ملے۔
اویس لغاری نے کہا کہ کچھ صارفین سولر سسٹمز لگا کر غیر منصفانہ طور پر 200 یونٹ سے کم درجے میں آ گئے ہیں، جس سے اصل بوجھ دیگر صارفین پر پڑ رہا ہے۔ اس نظام کی اصلاح کے ذریعے بجلی سبسڈی کو بہتر انداز میں تقسیم کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پاور سیکٹر اصلاحات کے نتیجے میں اربوں روپے کی بچت ہوئی ہے، سرکلر ڈیٹ میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ مختلف اقدامات کے باعث بجلی کے نرخوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت سولر انرجی کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی بلکہ نیٹ میٹرنگ نظام کو ڈیجیٹل اور شفاف بنایا جا رہا ہے۔ چھوٹے سولر منصوبوں کے لیے آسانیاں بھی فراہم کی گئی ہیں اور نیٹ میٹرنگ مکمل طور پر ختم نہیں کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی قیاس آرائیاں درست نہیں، حکومت توانائی شعبے میں اصلاحات کے ذریعے صارفین کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

