کراچی:(رپورٹ: سید اسد عباس) شہر کے معروف اور گنجان آباد رہائشی علاقے شمالی ناظم آباد میں بنیادی شہری سہولیات کی عدم فراہمی، پانی اور گیس کے شدید بحران، اسٹریٹ کرائمز میں اضافے اور دیگر انتظامی مسائل نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی غفلت اور ناقص کارکردگی کے باعث روزمرہ معمولات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
شمالی ناظم آباد کے مختلف بلاکس میں پانی کی فراہمی بدستور ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ شہریوں کے مطابق سرکاری لائنوں کے ذریعے پانی نہ ہونے کے برابر مل رہا ہے، جس کے باعث وہ مہنگے داموں واٹر ٹینکرز خریدنے پر مجبور ہیں۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KW&SC) کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر مؤثر انتظامات کے باعث پانی کا بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔
دوسری جانب سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کی جانب سے غیر اعلانیہ اور طویل دورانیے کی گیس لوڈشیڈنگ نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ متعدد علاقوں میں گیس انتہائی کم پریشر کے ساتھ محدود اوقات کے لیے فراہم کی جا رہی ہے، جس سے گھریلو صارفین، خصوصاً خواتین اور ملازمت پیشہ افراد کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔ شہری متبادل کے طور پر مہنگے ایل پی جی سلنڈرز استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
علاقے میں اسٹریٹ کرائمز اور ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ موبائل فون، نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء چھیننے کی وارداتیں معمول بنتی جا رہی ہیں جبکہ خواتین، بزرگ اور طلبہ بھی جرائم پیشہ عناصر کے نشانے پر ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس گشت میں اضافہ اور مؤثر سیکیورٹی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
پانی، گیس اور سیکیورٹی مسائل کے علاوہ صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، نکاسی آب کے مسائل اور غیر قانونی تجاوزات بھی علاقے کے مکینوں کے لیے مستقل دردِ سر بن چکی ہیں۔ بارش کے دوران صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے اور متعدد سڑکیں اور گلیاں پانی میں ڈوب جاتی ہیں، جس سے آمدورفت متاثر ہوتی ہے۔
شمالی ناظم آباد کے رہائشیوں نے حکومت سندھ، سندھ پولیس، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن، سوئی سدرن گیس کمپنی اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی اور گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے، اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے اور بنیادی شہری سہولیات کی بہتری کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ان دیرینہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق شمالی ناظم آباد جیسے اہم رہائشی علاقے کے مسائل کا حل صرف
اعلانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے
