روس نے اتوار کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے گرد و نواح پر بڑے پیمانے پر ڈرونز اور میزائل حملے کیے، جن میں جدید اوریشنک ہائپر سونک میزائل بھی شامل تھا۔ غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق یہ حملہ گزشتہ چار برس سے جاری جنگ کے دوران کیف پر ہونے والے شدید ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران اہم معاہدے کے قریب، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی متوقع
یوکرینی حکام کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے حملوں میں کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ 80 سے زائد زخمی ہوئے۔ حملوں کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتیں، اسکول اور دیگر شہری تنصیبات تباہ یا شدید متاثر ہوئیں۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ روس نے حملے میں مجموعی طور پر 90 میزائل اور 600 ڈرونز استعمال کیے۔ رپورٹ کے مطابق روس نے اس حملے میں اوریشنک ہائپر سونک میزائل بھی داغا، جو ہزاروں کلومیٹر تک مار کرنے اور جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق فروری 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ روس نے یوکرین کے خلاف اوریشنک میزائل استعمال کیا ہے۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ حالیہ حملے میں کیف کے قریب واقع شہر بیلا تسیرکوا کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کی آبادی تقریباً دو لاکھ ہے۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ حملوں میں یوکرین کی فوجی کمانڈ تنصیبات، فضائی اڈوں، فوجی انٹیلی جنس مراکز اور دفاعی صنعت سے وابستہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
روسی حکام کے مطابق یہ کارروائی یوکرین کی جانب سے روس کے اندر شہری اہداف پر حملوں کے جواب میں کی گئی، جس میں اوریشنک، اسکندر، کنزال اور زرکون جیسے جدید میزائل استعمال کیے گئے۔

