Iran نے امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کے دوران جنگ بندی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور ایرانی جہازوں کے بحری تحفظ کو مذاکرات کا اہم حصہ قرار دے دیا ہے۔
پاکستانی سفارتی کوششیں کامیاب، امریکی تحویل میں موجود بحری جہاز کے 20 ایرانی اہلکار وطن واپس پہنچ گئے
ایرانی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے بھیجے گئے حالیہ پیغام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بعض اختلافات میں کمی آئی ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ مزید پیش رفت کے لیے واشنگٹن کو جنگی دھمکیوں اور دباؤ کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmaeil Baghaei نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے، تاہم بعض معاملات پر منطقی شکوک و شبہات اب بھی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور ایرانی جہازوں کے خلاف مبینہ بحری قزاقی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق جوہری پروگرام سے متعلق بعض قیاس آرائیاں حقیقت پر مبنی نہیں، جبکہ امریکا سے مذاکرات کا بنیادی محور لبنان سمیت مختلف خطوں میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کی تفصیلات مناسب وقت پر مجاز حکام اور مذاکراتی ٹیم کے ترجمان جاری کریں گے۔
دوسری جانب Donald Trump نے بھی حالیہ بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور امریکا صرف یہ چاہتا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کنٹرول میں لیا جائے گا۔
عالمی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف ممالک بھی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

