کراچی میں شاپنگ مالز، نجی و سرکاری دفاتر اور دیگر کمرشل عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس کے تحت اب تک 800 عمارتوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ بات کمشنر کراچی نے اپنے جاری کردہ بیان میں بتائی۔
کمشنر کراچی کے مطابق اس سروے کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنرز کر رہے ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں فائر سیفٹی سے متعلق جانچ پڑتال اور کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فائر سیفٹی سے متعلق ایک موبائل ایپ اور ون ونڈو ڈیش بورڈ تیار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے عمارتوں کی مکمل معلومات ایک ہی نظام میں دستیاب ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال، خصوصاً آتشزدگی کی صورت میں ریسکیو اداروں کو فوری اور درست معلومات فراہم کرنا ہے۔
کمشنر کراچی کے مطابق فائر سیفٹی پورٹل پر اب تک سروے شدہ عمارتوں کی تفصیلات بھی اپ لوڈ کی جا چکی ہیں، جبکہ وہ عمارتیں جو حفاظتی تقاضے پورے نہیں کر رہیں، انہیں نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں۔
ہائی رسک عمارتوں کی نشاندہی کے لیے سول ڈیفنس کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں، تاکہ خطرناک عمارتوں کی بروقت درجہ بندی اور حفاظتی اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔
مزید بتایا گیا کہ کے ایم سی، سول ڈیفنس اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) فائر سیفٹی آڈٹ کے عمل میں مشترکہ طور پر تعاون کر رہے ہیں، جبکہ کراچی کی تمام نجی، کمرشل اور سرکاری عمارتوں کا مکمل سروے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کمشنر کراچی نے کہا کہ فائر سیفٹی آڈٹ کو جلد مکمل کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کردار ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شاپنگ مالز سمیت بڑی عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا ڈیجیٹل ریکارڈ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط اور مؤثر ریسکیو سسٹم قائم کیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں فوری ردعمل کو یقینی بنائے گا۔

