Site icon Tashakur News

خیبرپختونخوا جل رہا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں، پراسیکیوشن نظام ناکام ہوچکا ہے: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

434478 3018153 updates

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا 4 کروڑ عوام کا صوبہ ہے جو جل رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔
پاک چین دوستی ہر دور میں مضبوط رہی، سی پیک نے ترقی میں اہم کردار ادا کیا: وزیراعظم شہباز شریف

پشاور ہائی کورٹ میں کریمنل جسٹس سسٹم میں خامیوں سے متعلق لارجر بینچ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس اعجاز خان نے کی۔ سماعت کے دوران چیف سیکرٹری، ایڈووکیٹ جنرل اور سیکرٹری داخلہ خیبرپختونخوا عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ لارجر بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے پراسیکیوشن سسٹم کو مضبوط بنانے کی ہدایت دی تھی مگر پیش کی گئی رپورٹ میں کوئی مؤثر پیش رفت نظر نہیں آتی۔

چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دیے کہ جنوبی اضلاع دہشتگردی کے باعث شدید متاثر ہیں اور ڈی آئی خان، کرک اور ٹانک جیسے علاقوں میں صورتحال انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود ڈی آئی خان جانا چاہتے تھے مگر سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سفر نہ کرسکے۔

عدالت نے پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر خاتون ججز پسماندہ اضلاع میں فرائض انجام دے سکتی ہیں تو دیگر افسران وہاں کیوں نہیں جاتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ شرمناک بات ہے کہ خیبرپختونخوا سے ڈی این اے سیمپلز لاہور بھیجے جاتے ہیں جبکہ ایک ڈی این اے ٹیسٹ پر تقریباً 11 لاکھ روپے خرچ آتا ہے اور صوبے میں اب تک کوئی ڈی این اے لیبارٹری قائم نہیں کی جاسکی۔

چیف جسٹس نے حکام کو ہدایت کی کہ عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کریں گے۔

بعدازاں عدالت نے متعلقہ حکام کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت یکم جولائی تک ملتوی کردی۔

Exit mobile version