Tashakur News

ایس بی سی اے ریگولیشنز 2026 میں ترمیم، فیسوں اور چارجز میں نمایاں اضافہ، تعمیراتی شعبے میں تشویش

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2026 میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد مختلف فیسوں اور چارجز میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

پاک انٹرنیشنل بزنس فورم کی حافظ نعیم کے یومِ احتجاج کی حمایت، عوامی ریلیف کا مطالبہ

نوٹیفکیشن کے مطابق رہائشی منصوبوں کی اسکروٹنی فیس 16 روپے سے بڑھا کر 17 روپے 50 پیسے فی اسکوائر فٹ مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ کمرشل منصوبوں کی فیس 22 روپے سے بڑھا کر 25 روپے 25 پیسے فی اسکوائر فٹ کر دی گئی ہے۔

انڈسٹریل پلاٹس کی اسکروٹنی فیس 20 روپے سے بڑھا کر 22 روپے فی اسکوائر فٹ اور میونسپل حدود سے باہر صنعتی پلاٹس کی فیس 1 روپے 25 پیسے سے بڑھا کر 1 روپے 50 پیسے فی اسکوائر فٹ مقرر کی گئی ہے۔

انفراسٹرکچر بیٹرمنٹ چارجز میں بھی اضافے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت مختلف علاقوں میں فیس 55 روپے فی اسکوائر فٹ تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ کلفٹن اور کے ڈی اے اسکیم فائیو میں یہ چارجز 57 روپے 50 پیسے فی اسکوائر فٹ تجویز کیے گئے ہیں۔

ہائی ڈینسٹی علاقوں میں بیٹرمنٹ چارجز 200 روپے سے بڑھا کر 230 روپے فی اسکوائر فٹ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ڈیمولیشن پرمیشن فیس میں بھی اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت رہائشی پلاٹس کی فیس 10 ہزار روپے جبکہ کمرشل اور صنعتی املاک کی فیس 20 ہزار روپے تک کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق بغیر اجازت عمارت گرانے پر 400 فیصد اضافی جرمانہ عائد کرنے کی بھی تجویز شامل ہے، جبکہ ڈی این پی فارم کی قیمت 600 روپے سے بڑھا کر 750 روپے کر دی گئی ہے۔

ملٹی اسٹوری رہائشی اور کمرشل منصوبوں کی سیل این او سی فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ٹاؤن شپ اسکیموں کی فیسوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تعمیراتی شعبے سے وابستہ حلقوں نے ان اضافوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوگا اور بالآخر شہریوں پر مالی بوجھ بڑھے گا۔

نوٹیفکیشن پر ڈی جی ایس بی سی اے مظمل حسین کے دستخط موجود ہیں اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

Exit mobile version