کراچی: سندھ اسمبلی سے منظور ہونے والا سندھ ڈومیسٹک ورکر ویلفیئر بل گورنر سندھ کو منظوری کے لیے ارسال کردیا گیا، جس کے تحت گھریلو ملازمین کے حقوق، اجرت، اوقاتِ کار، چھٹیوں اور سوشل سیکیورٹی سے متعلق اہم قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔
حیدرآباد میں کسٹمز کی بڑی کارروائی، ایک ارب 10 کروڑ مالیت کی ممنوعہ و اسمگل شدہ اشیاء تلف
منظور شدہ بل کے متن کے مطابق گھریلو ملازم کو اب “نوکر” نہیں بلکہ “گھریلو کارکن” کہا جائے گا، جبکہ سندھ میں بچوں سے گھریلو مزدوری کروانے پر پابندی عائد ہوگی۔
بل کے مطابق 16 سال سے کم عمر بچے کو گھریلو ملازمت پر رکھنا ممنوع ہوگا، جبکہ 18 سال سے کم عمر بچوں سے صرف ایسا ہلکا کام لیا جا سکے گا جو ان کی صحت اور تعلیم کو متاثر نہ کرے۔
قانون کے تحت ہر گھریلو کارکن کو تقرری کا تحریری خط دینا لازمی ہوگا اور اس کی ایک کاپی متعلقہ انسپکٹر کو بھی فراہم کرنا ہوگی۔
بل میں کہا گیا ہے کہ فل ٹائم یا رہائشی گھریلو کارکن سے روزانہ صرف 8 گھنٹے کام لیا جا سکے گا، جبکہ ہفتے میں ایک دن چھٹی لازمی ہوگی۔ ساتویں دن کام لینے کی صورت میں آجر کو دگنی تنخواہ ادا کرنا ہوگی۔
منظور شدہ قانون کے مطابق گھریلو ملازمین کو مذہبی تہواروں پر تنخواہ سمیت چھٹیاں، 10 اتفاقی چھٹیاں، 8 بیماری کی چھٹیاں اور خواتین ملازمین کو 6 ہفتے کی میٹرنٹی چھٹی دی جائے گی۔
بل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ گھریلو کارکن کی تنخواہ حکومت سندھ کی مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کم نہیں ہو سکتی۔
خواتین گھریلو ملازمین یا گھر کی خواتین کی جانب سے ہراسگی کی شکایت کی صورت میں معاملہ سندھ ہراسگی قانون 2010 کے تحت محتسب (Ombudsperson) کو بھیجا جائے گا۔
قانون کے مطابق سال میں ایک مرتبہ گھریلو کارکن کا میڈیکل چیک اپ لازمی ہوگا، جبکہ ویکسینیشن اور حفاظتی ٹیکوں کے اخراجات بھی آجر برداشت کرے گا۔
بل میں بیمار ملازمین کو چھٹی دینے کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ گورنر سندھ کی منظوری کے بعد یہ قانون فوری طور پر نافذ العمل ہوجائے گا۔

