کراچی: آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ انمول عرف پنکی کے کیس میں کئی معتبر نام سامنے آئے ہیں اور منشیات کے خریداروں سمیت بڑی مقدار میں منشیات خرید کر آگے فروخت کرنے والوں کے تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جائے گا۔
کراچی میں مویشی منڈیوں کی سیکیورٹی سخت، اضافی نفری تعینات، داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی مزید مؤثر
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ بھتہ خوری اور منشیات جیسے جرائم اب تیزی سے سائبر اسپیس میں منتقل ہو رہے ہیں، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید خطوط پر اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انمول عرف پنکی کے ایک سے زائد اکاؤنٹس ہونے کا امکان ہے، جبکہ بینکنگ معاملات کی تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا کہ پنکی کو غیر ضروری طور پر “گلیمرائز” نہ کیا جائے۔
آئی جی سندھ نے بتایا کہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات فروخت کرنے والوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منشیات سپلائی کرنے والے عناصر کی فہرستیں مرتب کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت سندھ کے تعاون سے انسداد منشیات مہم کو ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں 1700 سے زائد منشیات فروش گرفتار کیے گئے جبکہ 40 کلو آئس، 560 کلو چرس اور دیگر بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “جو لوگ منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں، انہیں کسی صورت نہیں بخشا جائے گا۔”
جاوید عالم اوڈھو نے کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس نے ڈھائی سال سے جاری کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چار ماہ میں 41 بڑے ڈاکو مارے گئے جبکہ 320 ملزمان نے خود کو قانون کے حوالے کیا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں اب کوئی نو گو ایریا موجود نہیں اور امن و امان کی بحالی کیلئے سندھ حکومت کے ساتھ مل کر ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔
ٹریفک مسائل کے حوالے سے آئی جی سندھ نے تجویز دی کہ شہر کے بڑے ہول سیل بازاروں کو سبزی منڈی کی طرز پر شہر سے باہر منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ کراچی میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے نادرن بائی پاس پر ایکسپریس وے کی تعمیر کو طویل المدتی ٹریفک حل قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہیوی ٹینکرز میں 70 فیصد تک ٹریکرز نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ گاڑیوں کی فٹنس کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تقریب سے قبل کراچی چیمبر کے صدر ریحان حنیف، بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا اور وائس چیئرمین جاوید بلوانی نے بھی خطاب کیا۔

