Site icon Tashakur News

خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران پر امریکی حملہ مؤخر، ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا فیصلہ: اسرائیلی صحافی کا دعویٰ

434316 5106986 updates

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر طے شدہ ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کرنے کے فیصلے سے متعلق ایک اسرائیلی صحافی نے اہم انکشاف کیا ہے۔
پراکسیز اور منفی پروپیگنڈا پاکستان کی ترقی نہیں روک سکتا، دشمن قوتیں ناکام ہوں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر

امریکی نشریاتی ادارے سے وابستہ اسرائیلی صحافی باراک رویڈ نے امریکی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے واشنگٹن سے رابطہ کر کے واضح کیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین معاشی اور علاقائی اثرات انہیں برداشت کرنا پڑیں گے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صدر ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی قیادت سے بات چیت کی، جس کے بعد تینوں ممالک نے مشترکہ طور پر امریکا کو مشورہ دیا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو موقع دیا جائے۔

اسرائیلی صحافی کے مطابق خلیجی ممالک نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایران پر حملے کی صورت میں خطے میں توانائی کی تنصیبات اور تیل کی صنعت شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک کسی بھی ممکنہ ردعمل میں اپنی آئل اور انرجی تنصیبات کو نشانہ بنتے نہیں دیکھنا چاہتے۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بیان میں تصدیق کی کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر ایران پر طے شدہ حملہ مؤخر کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کی بنیاد یہ ہے کہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور امید ہے کہ ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو خطے اور عالمی امن کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے امریکی عسکری قیادت کو ہدایت دی کہ فی الحال ایران پر حملے کا فیصلہ روک دیا جائے۔

Exit mobile version