کراچی (18 مئی 2026): پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ مزارات اولیاء اور مساجد پر قبضہ کرنے والے عناصر ملک میں انتشار پھیلانے کے ذمہ دار فسادی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سنی تحریک اپنے شہید قائد محمد سلیم قادری کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے ملک کے دفاع، انتہاپسندی کے خاتمے اور ہر قسم کے تعصب کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا پیر صاحب پگاڑا سے اہم رابطہ، سندھ کی سیاسی و معاشی صورتحال پر تفصیلی مشاورت
انہوں نے یہ بات بانی و قائد شہید محمد سلیم قادری کے یومِ شہادت کے موقع پر مرکزی اہلسنت پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ملک بھر میں پاکستان سنی تحریک کی اپیل پر قرآن خوانی اور دعائیہ تقریبات بھی منعقد کی گئیں، جن میں شہید قائد اور ان کے رفقاء کے بلند درجات کے لیے دعائیں کی گئیں۔
شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ 18 مئی 2001 کو شہید محمد سلیم قادری کو بلدیہ ٹاؤن میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جاتے ہوئے کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں نے حملہ کر کے شہید کیا، تاہم افسوس کہ دہشتگرد آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ دہشتگردوں کو قرار واقعی سزا دی جاتی، لیکن اس کے برعکس انہیں کھلی چھوٹ دی گئی۔ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ شہید قائد محمد سلیم قادری اور ان کے رفقاء کے کیسز پر ازخود نوٹس لے کر انصاف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سنی تحریک کے کارکنان نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف کلمۂ حق بلند کیا ہے اور شہید قائدین کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “قائد سنی تحریک شہید سلیم قادری کا لگایا ہوا پودا اب ایک تناور درخت بن چکا ہے اور ان کے نظریے کو عملی جامہ پہنا کر دہشتگرد عناصر کو ناکام بنایا جائے گا۔”
انہوں نے زور دیا کہ ملک کی سلامتی، استحکام اور معاشی بہتری کے لیے پالیسیوں پر نظرثانی ضروری ہے جبکہ عوام ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن حکمرانوں کو اپنی پالیسیاں ملکی مفاد کے مطابق بنانا ہوں گی۔

