اسرائیلی بحریہ نے ایک بار پھر غزہ کے لیے امداد لے جانے والے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کو بحیرہ روم میں روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امدادی تنظیم کے مطابق اسرائیلی اسپیڈ بوٹس نے قافلے میں شامل متعدد کشتیوں کو گھیرے میں لے کر ان کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
چین کے گوانگشی میں 5.2 شدت کا زلزلہ، 2 افراد ہلاک، عمارتیں منہدم
تنظیم کا کہنا ہے کہ کارروائی کے بعد فلوٹیلا پر موجود امدادی کارکنوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے، جس کے باعث صورتحال غیر واضح ہے۔ تنظیم کے مطابق قافلہ مکمل طور پر پرامن امدادی مشن پر تھا۔
اطلاعات کے مطابق ترکیہ سے غزہ کے لیے روانہ ہونے والے اس فلوٹیلا میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل تھے۔ سعد ایدھی نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ بحیرہ روم میں قافلے کا پیچھا جنگی بحری جہاز کر رہے تھے اور ایک کشتی کو روک بھی لیا گیا ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ قافلے کے ارکان کو بین الاقوامی پانیوں میں حراست میں لیا جا سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مشن کا مقصد غزہ تک انسانی امداد پہنچانا ہے اور یہ مکمل طور پر پرامن اقدام ہے۔
واضح رہے کہ سعد ایدھی 15 مئی کو ترکیہ سے اس امدادی قافلے کے ہمراہ روانہ ہوئے تھے۔

