کراچی میں بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (میٹرک بورڈ) کے حکام کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں جس کے باعث میٹرک کے امتحانی نتائج میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
وفاقی شرعی عدالت کا بڑا فیصلہ، خودکشی کو دوبارہ قابلِ تعزیر جرم قرار دے دیا
ذرائع کے مطابق ناظم امتحانات نے سیکرٹری میٹرک بورڈ کے خلاف سندھ حکومت کو باقاعدہ خط ارسال کردیا ہے، جس کی کاپیاں سیکرٹری جامعات و بورڈز اور صوبائی وزیر کو بھی بھجوائی گئی ہیں۔
خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سیکرٹری میٹرک بورڈ امتحانی امور میں مسلسل غیر قانونی مداخلت کر رہے ہیں اور امتحانات، تعیناتیوں اور منظوریوں سے متعلق اہم فائلیں روک رکھی ہیں، جس کے باعث امتحانی ونگ کی کارکردگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
کنٹرولر امتحانات کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری بورڈ مشاورت کے بغیر من پسند افراد کی تعیناتیوں میں ملوث ہیں، جبکہ امتحانی ونگ پیپرز کی تیاری، رازداری اور نتائج جیسے حساس امور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
خط میں سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ میٹرک بورڈ میں انتظامی نظم و ضبط فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ امتحانی نظام متاثر نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق ادارے کے اندرونی اختلافات کے باعث امتحانی نتائج کی بروقت تیاری پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور تاخیر کا امکان بڑھ گیا ہے۔

