Site icon Tashakur News

وفاقی شرعی عدالت کا بڑا فیصلہ، خودکشی کو دوبارہ قابلِ تعزیر جرم قرار دے دیا

434279 3580457 updates

اسلام آباد میں وفاقی شرعی عدالت نے خودکشی سے متعلق اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے خودکشی کو ایک بار پھر قابلِ تعزیر جرم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے 2022 میں کی گئی قانون سازی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔
سپر ہائی وے پر افسوسناک حادثہ، ڈمپر کی ٹکر سے دو پولیس اہلکار شہید

فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمن، جسٹس محمد انور اقبال اور جسٹس امیر خان پر مشتمل بینچ نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ 2022 کی قانون سازی کے ذریعے ضابطہ فوجداری سے جس شق کو حذف کیا گیا تھا، وہ حذف کرنا شریعت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق 2022 کے ایکٹ کے تحت خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینے والی شق ختم کی گئی تھی، تاہم وفاقی شرعی عدالت نے اس شق کو بحال کرتے ہوئے اسے دوبارہ قانونی حیثیت دے دی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قانون سازی میں کی گئی تبدیلیاں اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں تھیں، اس لیے انہیں کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور سابقہ قانونی پوزیشن بحال کی جاتی ہے۔

Exit mobile version