کراچی: سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور اگست تک مکس ٹریفک لینز مکمل کر لیے جائیں گے۔
بھارتی آرمی چیف کے بیان پر آئی ایس پی آر کا سخت ردعمل، پاکستان کو مٹانے کی دھمکی کو جنگی جنون قرار
ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر سب سے بڑا مسئلہ مکس ٹریفک ہے، جس کے حل کے لیے 24 گھنٹے کام جاری ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کے تحت یوٹیلیٹی لائنز کی منتقلی بھی تیزی سے کی جا رہی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے مصروف شہر ہے، اس لیے یہاں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنا دیگر شہروں کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے، کیونکہ سڑکوں کے نیچے پانی، سوئی گیس اور آپٹیکل فائبر جیسی اہم لائنیں موجود ہوتی ہیں جن کی منتقلی میں وقت درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واٹر بورڈ کی ایک لائن کی منتقلی میں چار دن لگے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مکس ٹریفک لینز اگست تک مکمل کر لیے جائیں گے جبکہ 23 تاریخ کو شاہراہِ بھٹو کا افتتاح کیا جائے گا، جس سے شہریوں کے سفر کے وقت میں تقریباً ایک گھنٹے کی کمی آئے گی۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ کراچی پورٹ سے کام صادق پل تک بالائی گزرگاہ کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ ان کے مطابق سندھ حکومت کی توجہ میگا پراجیکٹس پر مرکوز ہے جو آئندہ نسلوں کے لیے سرمایہ کاری ہیں اور ان سے طویل المدتی فوائد حاصل ہوں گے۔
شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ آئندہ ماہ پاکستان کی پہلی سرکاری ٹیکسی اسکیم بھی شروع کی جائے گی۔

