اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے سندھ میں غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن، کراچی ماس ٹرانزٹ منصوبوں میں تاخیر اور پاور ڈویژن سے متعلق مالی بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سندھ میں جاری غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ سندھ کی ممکنہ جوابدہی پر بھی سوالات اٹھائے گئے، اور کہا گیا کہ مبینہ بے ضابطگیوں پر انہیں قوم کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا۔
کمیٹی چیئرمین نے ایڈیشنل سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن (EAD) کو ہدایت دی کہ چیف سیکریٹری سندھ کو باضابطہ خط لکھا جائے تاکہ چیئرمین پی اینڈ ڈی آئندہ اجلاس میں شرکت کرکے منصوبوں پر بریفنگ دیں۔
اجلاس میں سفارش کی گئی کہ وفاقی وزیر اقتصادی امور کو بھی ان تحفظات سے آگاہ کیا جائے تاکہ غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں میں مبینہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی ممکن بنائی جا سکے اور شفافیت، مؤثر نگرانی اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔
کمیٹی نے اپنی سابقہ سفارشات دہراتے ہوئے کہا کہ اقتصادی امور ڈویژن میں ایک خصوصی مانیٹرنگ ڈیسک قائم کیا جائے جو ٹینڈرنگ کے عمل کا جائزہ لے اور ڈونر ایجنسیوں کے تعاون سے منصوبوں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنائے۔
مزید برآں 765 کے وی داسو–اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں مبینہ 1.282 ارب روپے کی ریکوری اور متعلقہ مالی معاملات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے پاور ڈویژن، نیشنل گرڈ کمپنی اور متعلقہ اہل فرم سے رقوم کی عدم وصولی پر بھی تشویش ظاہر کی۔
کمیٹی نے تیسرے کم ترین بولی دہندہ کو ٹھیکہ دینے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر ایڈیشنل سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن کی عدم تعمیل کا سخت نوٹس لیا۔

