کراچی میں ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 12 مئی کی شب حساس اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں بدنامِ زمانہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا گیا۔
بلاول بھٹو زرداری کو بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں اور حکومتی کارکردگی پر بریفنگ
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمہ کے قبضے سے 1540 گرام کوکین، 6970 گرام مختلف نشہ آور کیمیکل اور ایک 9 ایم ایم پستول بمعہ راؤنڈز برآمد کیے گئے۔ حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمہ کراچی سمیت مختلف تھانوں کے تقریباً 20 مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھی۔
پولیس نے بتایا کہ ملزمہ کو جوڈیشل عدالت میں پیش کیا گیا تاہم ریمانڈ نہ ملنے پر بعد ازاں سیشن کورٹ سے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا، جس کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
تفتیش کے مطابق ملزمہ نے 2014-15 میں اپنے سابق شوہر رانا ناصر کے ساتھ منشیات کا کاروبار شروع کیا اور بعد ازاں 2018 سے اس نے منظم آن لائن نیٹ ورک قائم کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ واٹس ایپ کے ذریعے آرڈرز وصول کرتی تھی جبکہ منشیات کی ترسیل لوکل بسوں اور بائیک رائیڈرز کے ذریعے مختلف شہروں میں کی جاتی تھی، جس کے لیے کھانے پینے کے ڈبوں کا استعمال بھی کیا جاتا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے 835 کانٹیکٹ نمبرز برآمد ہوئے جن میں سے تقریباً 300 ایکٹو کسٹمرز تھے۔ مزید یہ کہ 9 بائیک رائیڈرز کی شناخت بھی کر لی گئی ہے، جن میں ایک کا تعلق کراچی جبکہ باقی کا مختلف شہروں سے ہے۔
تحقیقات کے دوران 15 بڑے اور 38 مستقل خریداروں کی بھی نشاندہی ہوئی ہے جو ہر ماہ منشیات کی خریداری میں ملوث تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس سے متعلق بھی اہم شواہد ملے ہیں اور 6 مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے لین دین کیا جاتا تھا۔
ایڈیشنل آئی جی کے مطابق ذیشان اور سہیل نامی افراد، جو “فیاض کمیونیکیشن” کے مالک ہیں، مالی معاملات کی نگرانی کرتے تھے، جبکہ مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے تقریباً 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے مزید کارروائیاں جاری ہیں اور کیس کی تفتیش کو وسیع پیمانے پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

