International Monetary Fund نے پاکستان کے لیے نئی مالی شرائط عائد کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 430 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس اقدامات تجویز کر دیے ہیں، جبکہ ٹیکس وصولیوں، توانائی نرخوں اور مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق سخت اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں۔
کراچی: کوکین ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کی نشاندہی پر مختلف علاقوں میں چھاپے، مزید گرفتاریاں
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے Federal Board of Revenue کا ٹیکس ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی کی مد میں 1727 ارب روپے عوام سے وصول کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گیس ٹیرف اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا پلان بھی زیر غور ہے، جبکہ حکومت نے آئی ایم ایف کو ریونیو بڑھانے اور ٹیکس چوری روکنے کے لیے متعدد یقین دہانیاں کرائی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق شوگر، سیمنٹ، تمباکو اور کھاد کے شعبوں میں تقریباً 160 ارب روپے کی ٹیکس چوری یا ٹیکس گیپ موجود ہے، جس کے بعد ان سیکٹرز میں نگرانی کا سخت نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے جدید سی آر ایم سسٹم متعارف کرا رہا ہے، جس کے ذریعے بڑے ٹیکس چوروں کی نشاندہی کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے 431 نئے آڈیٹرز بھرتی کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 396 افسران جون تک شامل کیے جائیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سخت آڈٹ نظام کے ذریعے 2027 تک 92 ارب روپے اضافی آمدن متوقع ہے، جبکہ تمام سیلز ٹیکس دہندگان کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ لازمی قرار دی گئی ہے، جس سے مزید 46 ارب روپے ریونیو حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل اور بیوریجز سمیت مختلف شعبوں کی پیداوار کی نگرانی کی جائے گی تاکہ ٹیکس چوری کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق زرعی آمدن ٹیکس ہدف سے کم رہا، تاہم صوبوں کو انکم ٹیکس معلومات کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے تاکہ آئندہ مالی سال میں ٹیکس وصولی بہتر بنائی جا سکے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران ڈائریکٹ ٹیکسز سے 7413 ارب روپے، سیلز ٹیکس سے 4727 ارب روپے، کسٹمز ڈیوٹی سے 1651 ارب روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 1043 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سود کی ادائیگیوں پر 7824 ارب روپے خرچ ہونے کا امکان ہے، جبکہ دفاعی بجٹ کے لیے 2665 ارب روپے اور پی ایس ڈی پی پروگرام کے لیے 986 ارب روپے مختص کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کے مسائل نے پاکستان کی معیشت، قوت خرید اور مہنگائی پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
رپورٹ میں مالی سال 2026 کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد، اوسط مہنگائی 7.2 فیصد اور بیروزگاری کی شرح 6.9 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ زرمبادلہ ذخائر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔
