اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے کوہاٹ کے قریب خودکش حملہ آور کو روک کر قیمتی انسانی جانیں بچانے والے بہادر شہری لیاقت علی شہید کو ملک کے دوسرے بڑے سول اعزاز برائے بہادری ’’ستارۂ شجاعت‘‘ سے نواز دیا۔
کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایس بی سی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، متعدد غیرقانونی فلورز مسمار
ایوانِ صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران صدر مملکت نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات میں اعزازات تقسیم کیے۔ اس موقع پر قوم کے بہادر سپوت لیاقت علی شہید کا اعزاز ان کی والدہ نے وصول کیا، جبکہ ان کے اہلخانہ کو مکمل سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ایوانِ صدر لایا گیا۔
صدر مملکت نے اپنے خطاب میں کہا کہ لیاقت علی شہید نے خودکش حملہ آور کے سامنے ڈٹ کر غیر معمولی جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی قربانی قوم کے لیے باعثِ فخر اور آنے والی نسلوں کے لیے روشن مثال ہے۔
تفصیلات کے مطابق چند روز قبل کوہاٹ کے قریب خوشحال گڑھ کے علاقے میں ایک مشتبہ خارجی دہشتگرد کھیتوں کے راستے آگے بڑھ رہا تھا۔ اٹک کی تحصیل جنڈ کے گاؤں منکور سے تعلق رکھنے والے لیاقت علی نے مشتبہ شخص کو روک کر اس کی شناخت طلب کی۔ شناخت پوچھنے پر دہشتگرد بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
اس دلیرانہ اقدام کے نتیجے میں خودکش حملہ آور اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہا اور قریبی آبادی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہی۔ لیاقت علی شہید نے اپنی جان قربان کرکے بے مثال فرض شناسی اور جرات کی نئی مثال قائم کی۔
حکومتِ پاکستان نے ان کی عظیم قربانی کے اعتراف میں انہیں ستارۂ شجاعت عطا کرنے کی منظوری دی تھی، جس کے بعد آج انہیں سرکاری طور پر اس اعزاز سے نوازا گیا۔
وزیراعظم Shehbaz Sharif نے بھی لیاقت علی کو قوم کا ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جان قربان کرکے معصوم شہریوں کو بڑی تباہی سے بچایا۔

