Site icon Tashakur News

جی ایچ کیو میں معرکۂ حق کی یادگار تقریب، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دوٹوک مؤقف: “پاکستان ناقابلِ تسخیر تھا، ہے اور رہے گا”

433737 5626137 updates

راولپنڈی: جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ خصوصی اور پروقار تقریب سے چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معرکۂ حق صرف دو ممالک کے درمیان جنگ نہیں تھی بلکہ یہ دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا، جس میں باطل کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

کراچی: عید قربان سے قبل مویشی چوری کی وارداتیں تیز، گلستان جوہر سے 25 بکرے چوری

تفصیلات کے مطابق تقریب میں اعلیٰ عسکری قیادت، شہدا کے اہلخانہ اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل نے یادگار شہدا پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ بری، بحری اور فضائی افواج کے چاک و چوبند دستوں نے انہیں سلامی پیش کی۔

اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ مئی 2025 کا معرکہ اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ دشمن کی طویل سازشوں اور من گھڑت الزامات کا تسلسل تھا، جس کا پاکستان نے منظم اور فیصلہ کن جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب سے 10 مئی تک دشمن نے قومی وقار کو آزمانے کی کوشش کی، مگر اسے ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ بھارت کا مقصد پاکستان کو عسکری دباؤ اور سفارتی تنہائی کا شکار بنانا تھا، تاہم یہ خواب اس کے قد و کاٹھ سے کہیں بڑا تھا اور پاکستان نے اسے کبھی پورا نہیں ہونے دیا۔ ان کے مطابق افواجِ پاکستان نہ ماضی میں دباؤ میں آئیں اور نہ مستقبل میں آئیں گی۔

انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں نہ صرف زمینی، فضائی اور بحری محاذ پر کامیابی حاصل کی گئی بلکہ جدید جنگی حکمت عملی کے ذریعے دشمن کے اہم اہداف کو بھی مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان کا دفاع آج مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔

فیلڈ مارشل نے شہدا، بالخصوص خواتین اور بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانیاں قوم کی امانت ہیں اور ان کی بدولت آج پاکستان ایک مضبوط ریاست کے طور پر کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز، سائبر ٹیکنالوجی، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ہوں گی، اور پاکستان ہر سطح پر اس کے لیے مکمل تیار ہے۔ انہوں نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

فیلڈ مارشل نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی امن، ذمہ داری اور توازن پر مبنی ہے اور ملک عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔

تقریب کے اختتام پر مسلح افواج کے سربراہان نے دوبارہ شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

Exit mobile version