واشنگٹن: امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین کے درمیان متعدد اہم امور پر مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔
امریکا ایران مذاکرات کا نیا دور اسلام آباد میں متوقع، پاکستان کی ثالثی کردار کی تعریف
غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح پر ہونے والی یہ ملاقات اپنی نوعیت کی اہم پیش رفت تھی، اور ممکنہ طور پر ایرانی قیادت کے دور میں اس سطح کی بات چیت پہلی بار ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے حوالے سے اب فیصلہ ایران پر منحصر ہے، اور “اب گیند تہران کے کورٹ میں ہے” کہ وہ آگے بڑھنے کے لیے کیا اقدامات کرتا ہے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور امریکا کی تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول کے گرد گھومتی ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا توقع رکھتا ہے کہ ایران عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اس اہم بحری راستے کو کھلا رکھنے کے لیے اقدامات کرے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے، تاہم دونوں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
سفارتی ماہرین کے مطابق موجودہ پیش رفت اگر جاری رہی تو خطے میں کشیدگی میں کمی اور مزید مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

