Site icon Tashakur News

سندھ حکومت کا کسانوں کو سرکاری معیاری بیج سستے داموں فراہم کرنے کا فیصلہ

Screenshot 2026 01 13 193428

سندھ حکومت نے آئندہ نجی شعبے سے زرعی بیج خریدنے کے بجائے صوبے کے کاشتکاروں کو سندھ سیڈ کارپوریشن کے تیار کردہ سرکاری معیاری بیج سستے داموں فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سندھ سیڈ کارپوریشن کی صوبہ بھر میں موجود تمام زرعی زمینوں کی جیو مارکنگ کرانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

تھانہ پاکستان بازار کے علاقے تھورانی گوٹھ میں پولیس مقابلہ، مسلح ڈکیت گینگ کے 2 ملزمان گرفتار، ایک فرار

یہ فیصلے وزیرِ زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر کی صدارت میں سندھ سیڈ کارپوریشن کی کارکردگی کے جائزے سے متعلق منعقدہ اجلاس میں کیے گئے۔ اجلاس میں سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو، ایڈیشنل سیکریٹری ادریس کھوسو، منیجنگ ڈائریکٹر سندھ سیڈ کارپوریشن عبدالفتاح ھلیو سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں سیڈ کارپوریشن کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ افسران نے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی رپورٹس پیش کیں۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 352 ایکڑ زائد رقبے پر گندم کاشت کی گئی اور مجموعی طور پر 2242.85 ایکڑ پر گندم کی کاشت کی جاچکی ہے۔

حکام نے بتایا کہ کپاس کی مد میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپے جبکہ چاول (پیڈی) کی مد میں ایک کروڑ 60 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کاشتکاروں کو سستے داموں گندم کے بیج کے 2170 بیگز فراہم کیے گئے۔ ایم ڈی سندھ سیڈ کارپوریشن نے بریفنگ میں بتایا کہ 295 من کپاس کی جننگ کی گئی ہے جبکہ فش پونڈز سے بھی آمدنی حاصل ہوئی ہے۔

وزیرِ زراعت سردار محمد بخش مہر نے اجلاس کو بتایا کہ لینڈ گریبرز کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جبکہ گھوٹکی میں 120 ایکڑ زمین ناجائز قبضے سے واگزار کرالی گئی ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ سندھ سیڈ کارپوریشن کی صوبہ بھر کی تمام زرعی زمینوں کی جیو مارکنگ کی جائے تاکہ زمین کی حدود، رقبہ اور مقام کو جی پی ایس اور نقشوں کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں محفوظ کیا جاسکے۔

وزیرِ زراعت نے ایم ڈی سندھ سیڈ کارپوریشن کو ہدایت کی کہ آئندہ صوبے کے کاشتکاروں کو ایس ایس سی کے ذریعے سرکاری، معیاری بیج سستے داموں فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے سندھ سیڈ کارپوریشن کو مالی اور انتظامی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کردیا گیا ہے، جس سے کاشتکاروں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

Exit mobile version