Site icon Tashakur News

تاجکستان میں افغان سرحد سے دراندازی 3 مسلح افراد ہلاک دو تاجک سرحدی اہلکار شہید

26133806d01a0dc

تاجکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تاجک ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے بارڈر ٹروپس نے افغانستان سے ہونے والی ایک اور سرحدی دراندازی ناکام بنا دی۔ منگل کی شب تین مسلح افراد نے تاجکستان کے جنوب مغربی علاقے ختلون کے ضلع شمسی الدین شوہین میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کی، جنہیں بدھ کے روز تلاش کر لیا گیا۔
صدر متحدہ عرب امارات اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے اہم ملاقاتیں اور مذاکرات متوقع

تاجک بارڈر فورسز کے بیان کے مطابق مشتبہ افراد نے تاجک سرحدی اہلکاروں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور مسلح مزاحمت کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کا مقصد قومی سلامتی کمیٹی کے بارڈر ٹروپس کی ایک چوکی پر حملہ کرنا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کارروائی کے دوران تینوں مسلح افراد مارے گئے، تاہم جھڑپ کے نتیجے میں دو تاجک سرحدی اہلکار بھی جان سے گئے۔

تاجک حکام کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران افغانستان سے یہ تیسرا واقعہ ہے جس میں مسلح حملہ، دہشت گرد سرگرمی یا غیر قانونی سرحدی دراندازی کی کوشش کی گئی۔ حکام نے افغان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ تاجک۔افغان سرحد پر سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر بارہا عمل درآمد میں ناکام رہی ہے۔

تاجک بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ افغان انتظامیہ اس واقعے پر تاجک عوام سے معذرت کرے گی اور سرحدی سلامتی کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرے گی۔ تاہم اس پیش رفت پر افغانستان کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی تاجکستان نے افغانستان سے ہونے والے دو سرحد پار حملوں میں پانچ افراد کے ہلاک اور پانچ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

دریں اثنا، بدھ کے روز تاجک صدر امام علی رحمان نے تاجک۔افغان سرحد کے قریب ہرب میدان تربیتی مرکز میں چار نئی سرحدی چوکیاں اور ٹینکوں کی تربیت کے لیے ایک جدید فائرنگ رینج کا افتتاح کیا، جس کا مقصد سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

Exit mobile version