Site icon Tashakur News

سعودی عرب میں قوانین میں نرمی غیر مسلم غیر ملکیوں کو شراب کی خریداری کی مشروط اجازت

02122252a5f93be

شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں غیر مسلم غیر ملکی رہائشیوں کے لیے شراب کی خریداری کے قوانین خاموشی سے مزید نرم کر دیے گئے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق اب وہ غیر ملکی رہائشی جو کم از کم 50 ہزار ریال ماہانہ تنخواہ حاصل کرتے ہیں، ریاض میں ملک کی واحد شراب کی دکان سے مشروبات خرید سکتے ہیں۔
آئی سی سی اہلکاروں پر امریکی پابندیاں جج توموکو اکانے کا دباؤ مسترد کرنے کا اعلان

گزشتہ ماہ کے اختتام پر پریمیم ویزا ہولڈرز کو شراب خریدنے کی اجازت دے کر پہلی مرتبہ غیر سفارتی غیر ملکی رہائشیوں کے لیے بھی راستہ ہموار کیا گیا تھا، جس کے بعد نئی تبدیلیوں نے اس اجازت کو مزید وسیع کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شراب کی دکان میں صارفین اپنی رہائشی دستاویزات دکھاتے ہیں، جس کے بعد دکان کا عملہ سعودی سرکاری پلیٹ فارم کے ذریعے ان کی تنخواہ کی تفصیلات کی تصدیق کرتا ہے اور اہلیت ثابت ہونے پر شراب فروخت کر دی جاتی ہے۔

سعودی عرب کا پریمیم ریزیڈنسی پروگرام 2019 میں شروع ہوا تھا، جس کے تحت مخصوص غیر ملکی 8 لاکھ ریال کی ایک مرتبہ ادائیگی سمیت دیگر شرائط پوری کرنے کے بعد یہ خصوصی درجہ حاصل کر سکتے ہیں۔

البتہ برسوں سے ریاض کے بعض رہائشی خود ساختہ غیر قانونی شراب تیار کرتے رہے ہیں، جبکہ بلیک مارکیٹ میں وہسکی کی ایک بوتل کئی سو ڈالر میں فروخت ہوتی ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دور میں ملک میں معاشی تنوع، سیاحت کے فروغ اور بین الاقوامی کاروبار کو راغب کرنے کے وسیع منصوبوں کے تحت ایسی پابندیوں میں بتدریج نرمی کی جا رہی ہے۔

Exit mobile version