وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو ہر تیسرے سال ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کی وجہ سے قومی معیشت (جی ڈی پی) کا خاطرخواہ حصہ نقصان کی تلافی اور بحالی کے کاموں پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محدود قومی وسائل ترقیاتی منصوبوں کے بجائے ماحولیاتی چیلنجز اور قدرتی آفات سے نمٹنے پر استعمال ہو رہے ہیں، حالانکہ پاکستان کا گلوبل کاربن اخراج میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔
Wednesday, 19th November 2025
وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلی سے بچاؤ کے لیے قلیل مدتی منصوبوں پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس کو وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے قلیل، وسط اور طویل المدتی ترجیحات پر بریفنگ دی، جب کہ آئندہ مون سون سیزن سے متعلق عالمی پیش گوئیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے بہتر انتظام سے متعلق نیشنل واٹر کونسل کا اجلاس بھی جلد طلب کیا جائے، تاکہ ممکنہ بارشوں، سیلابی صورتحال اور آبی ذخائر کے موثر استعمال کے لیے پیشگی حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔

