Site icon Tashakur News

گلگت بلتستان 68 روزہ تاجر دھرنا ختم وفاقی حکومت سے معاہدہ طے

گلگت بلتستان کے تاجروں نے 68 روز سے جاری دھرنا وفاقی حکومت سے معاہدہ طے پانے کے بعد ختم کر دیا۔ تاجروں کی سپریم کونسل نے باضابطہ طور پر احتجاج کے خاتمے کا اعلان کیا۔
لداخ ریاستی حیثیت کے مطالبات پر مظاہرے کارکن وانگچک گرفتار کرفیو نافذ

احتجاج کی قیادت کرنے والے ممتاز جاوید حسین نے بتایا کہ معاہدے کے بعد دھرنا تو ختم کر دیا گیا ہے مگر ہمارے مطالبات پوری طرح تسلیم نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کونسل کے فیصلے کے احترام میں احتجاج ختم کیا ہے۔

تاجر رہنما ریحان شاہ نے کہا کہ سوست ڈرائی پورٹ پر دو سال سے پھنسے 200 سے زائد کنٹینرز اگلے دو روز میں کلیئر کر دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق معاہدے میں یہ طے پایا ہے کہ ایک ماہ کے اندر ایس آر او جاری کیا جائے گا تاکہ مطالبات کو قانونی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایس آر او میں تاخیر ہوئی یا وعدے پورے نہ ہوئے تو تاجر دوبارہ احتجاجی لائحہ عمل طے کریں گے۔

یاد رہے کہ تاجروں کے اس دھرنے کے باعث سلک روٹ ڈرائی پورٹ سے تجارتی سرگرمیاں معطل ہوگئی تھیں، جس سے پاک-چین تجارت اور سیاحت شدید متاثر ہوئی۔

معاہدے کے تحت گلگت بلتستان کو آئینی حیثیت کے تناظر میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس رعایت کے نتیجے میں چین سے درآمد کی جانے والی اشیا قومی مارکیٹ کے مقابلے میں 50 فیصد تک سستی دستیاب ہوں گی۔ تاہم ملک کے دیگر حصوں کے لیے چین سے درآمدات پر کوئی ٹیکس رعایت نہیں دی گئی۔

Exit mobile version