لاہور میں منعقد ہونے والی ایک متنازع محفل پر بزنس ویمن ماریہ بی نے سخت ردعمل دیا ہے۔ پروگرام بول رپورٹس ود بتول راجپوت میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس تقریب کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے جنہیں دیکھ کر عوام میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
غذر کے گاؤں روشان تلی داس میں گلیشیئر جھیل پھٹنے سے سیلاب، پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن
ماریہ بی نے الزام عائد کیا کہ اس طرح کی تقریبات کے پیچھے فنڈنگ ہو رہی ہے اور ٹرانسجینڈر کے ایجنڈے کو پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور یورپ میں ایسی پارٹیاں منعقد کی جاتی ہیں مگر لاہور جیسے شہر میں ایسی محفلوں کا انعقاد ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہی ٹرانسجینڈرز ہیں جو مغرب میں خواتین کو گھروں میں زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔ ماریہ بی کا مزید کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی ان کے خلاف آگاہی مہم چلا چکی ہیں اور ان کے گرو چیلے بچوں کو جسم فروشی جیسے مکروہ دھندے میں دھکیلتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس متنازع محفل کا انعقاد اجازت نامہ لے کر کیا گیا تھا، تاہم ویڈیوز منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا اور عوام نے منتظمین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

