Site icon Tashakur News

راولپنڈی میں غیرت کے نام پر قتل، خاتون کی قبر کشائی ڈی این اے نمونے حاصل 7 ملزمان گرفتار

2813241298e3396

راولپنڈی کے علاقے پیرودہائی میں غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی خاتون کی قبر کشائی کر کے ڈیڈ باڈی کے نمونے حاصل کر لیے گئے۔ کارروائی کے دوران پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری، میڈیکل ٹیم، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر موجود رہیں۔
کراچی منگھوپیر میں سی ٹی ڈی کا دہشت گردوں کیخلاف کامیاب آپریشن 3 ہلاک خودکش حملہ آور بھی شامل

قبر کشائی کے دوران علاقہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں ملزم گورکن راشد محمود نے مقتولہ کی قبر کی نشاندہی کی۔ ہولی فیملی ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نے لاش سے نمونے حاصل کیے جو فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے۔ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی دو رکنی ٹیم بھی پیرودہائی قبرستان پہنچی اور موقع پر سیمپل اکٹھے کیے۔

پولیس کے مطابق مقتولہ کو 16 اور 17 جولائی کی درمیانی شب قتل کیا گیا اور لاش کو چھتی قبرستان میں دفنا دیا گیا۔ خاتون کی تدفین کے بعد گورکن سمیت 25 افراد نے قبر کے شواہد مٹانے کی کوشش کی۔ اب تک مقدمے میں 7 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں گورکن، قبرستان کمیٹی کا سیکریٹری، رکشہ ڈرائیور اور سابق وائس چیئرمین عصمت اللہ شامل ہیں، جب کہ 3 افراد جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔

واقعہ میں اہم پیش رفت اُس وقت ہوئی جب مقتولہ سدرہ کا مبینہ دوسرا شوہر عثمان پیرودہائی تھانے میں پیش ہو گیا۔ اس کے والد محمد الیاس نے ویڈیو بیان میں انکشاف کیا کہ مقتولہ حافظہ قرآن تھی، اس کے والد وفات پا چکے تھے اور والدہ نے سدرہ کے چچا سے شادی کر لی تھی۔ چچا، سدرہ کی شادی ایک بڑی عمر کے شخص سے کرنا چاہتا تھا جس پر اس نے گھر چھوڑ دیا اور 14 جولائی کو مظفرآباد میں عثمان سے نکاح کر لیا۔

محمد الیاس کے مطابق نکاح کے تین دن بعد 8 سے 10 مسلح افراد مظفر آباد میں ان کے گھر آئے، زبردستی سدرہ کو واپس راولپنڈی لے گئے اور بعد میں قتل کر دیا۔ انکشاف ہوا ہے کہ مقتولہ کی نماز جنازہ بھی اسی ملزم عصمت اللہ نے پڑھائی، جس نے اس کے قتل کا فیصلہ جرگے میں سنایا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کرنے کے بعد فرانزک رپورٹ کی روشنی میں قانونی کارروائی مزید آگے بڑھائی جائے گی۔

Exit mobile version