Site icon Tashakur News

پیوٹن کی ایران پر امریکی حملوں کی مذمت روس کی مدد کی یقین دہانی

231532432a4b52d

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ماسکو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ایران کے خلاف جارحیت مکمل طور پر بلاجواز اور بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ایران پر حملوں کے بعد خطے کی صورتحال اور بڑے فیصلوں پر غور

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر پیوٹن نے کریملن میں بات چیت کے دوران ایرانی عوام کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دوسری جانب عباس عراقچی نے ایران پر امریکی حملوں کی مذمت پر صدر پیوٹن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ روس تاریخ کے درست جانب کھڑا ہے۔ انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیاں کی جانب سے پیوٹن کے لیے نیک تمنائیں اور سلام بھی پہنچائے۔

ریاستی خبر رساں ایجنسی ٹاس کے مطابق عراقچی نے کہا کہ ایران اور روس مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اپنے مؤقف کو ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی خامنہ ای کا خط پیوٹن تک پہنچائیں گے جس میں ایران کے لیے مزید مدد اور کھلی حمایت کی درخواست کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران اب تک روس کی حمایت کو ناکافی سمجھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ روس امریکا اور اسرائیل کے خلاف زیادہ کھل کر اس کا ساتھ دے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ تہران کس نوعیت کی مدد چاہتا ہے۔

کریملن نے تصدیق کی ہے کہ پیوٹن اور عراقچی کی ملاقات ہو گی، البتہ ملاقات میں زیر بحث آنے والے امور کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ امریکا کے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملے نے تنازع کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق روس نے ثالثی کی پیشکش کی ہے اور اب ایران کی ضروریات پر انحصار ہے کہ روس کس طرح مدد فراہم کرے گا۔ پیسکوف کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پیوٹن کو حملے سے قبل آگاہ نہیں کیا تھا، حالانکہ عمومی طور پر دونوں کے درمیان امریکی فوجی مداخلت پر بات چیت ہوئی تھی۔

Exit mobile version