وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور جنوبی ایشیا کے حالیہ بحران میں پاکستان کی حمایت پر آذربائیجان کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
سندھ ہائیکورٹ ایس بی سی اے نے رہائشی پلاٹوں پر کمرشل سرگرمیوں کی اجازت واپس لے لی جماعت اسلامی کی درخواستیں نمٹا دی گئیں
آذربائیجان کی حمایت کا شکریہ:
وزیراعظم نے کہا کہ صدر الہام علیوف کی مستقل حمایت پاکستانی عوام کے ساتھ ان کی سچی محبت کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام ہمیشہ بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
بھارت کے رویے پر تشویش:
وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے جنگ بندی مفاہمت پر قائم ہے لیکن اگر پاکستان کی خودمختاری پر کوئی حملہ ہوا تو بھرپور دفاع کیا جائے گا۔
مسئلہ کشمیر پر مؤقف:
وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ جنوبی ایشیا میں بدامنی کی جڑ ہے اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے آذربائیجان کی جانب سے کشمیر کاز کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔
دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت:
وزیراعظم نے آذربائیجان کی جانب سے پاکستان میں دو ارب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری پر اطمینان کا اظہار کیا اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دورہ پاکستان کی دعوت:
وزیراعظم نے صدر الہام علیوف کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی، جو انہوں نے قبول کر لی۔ صدر علیوف نے پاکستان کی کامیابیوں پر مبارکباد دی اور امن کی کوششوں کو سراہا۔
آذربائیجان کا مؤقف:
صدر الہام علیوف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آذربائیجان پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں اپنے برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

