Site icon Tashakur News

آئندہ بجٹ میں موسمیاتی اخراجات کی علیحدہ نشاندہی سبسڈیز میں کلائمیٹ بجٹ ٹیگنگ کا نیا نظام نافذ

حکومت نے آئندہ مالی سال سے موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق تمام بجٹ اخراجات کی علیحدہ نشاندہی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کی قومی حکمت عملی کو مضبوط بنانا اور آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
غزہ میں امریکی اسرائیلی یرغمالی کی متوقع رہائی اسرائیل کا بمباری جاری رکھنے کا اعلان

وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ "کلائمیٹ بجٹ ٹیگنگ” کا دائرہ کار اب صرف ترقیاتی بجٹ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ سبسڈیز اور گرانٹس پر بھی لاگو ہوگا۔ اس نئی پالیسی کے تحت تمام متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 30 مئی تک اپنے بجٹ تخمینے جمع کرائیں، جن میں اضافی فارم "تھری سی” کو بھی پُر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ نظام آئی ایم ایف کے موجودہ سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کا حصہ ہے، جس میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ہر سال مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا کم از کم ایک فیصد موسمیاتی موافقت اور لچک کے منصوبوں پر خرچ کرے — جو موجودہ مالی سال کے حساب سے ایک کھرب 24 ارب روپے سے زائد بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس سرمایہ کاری سے شدید موسمی خطرات — خصوصاً بار بار آنے والے تباہ کن سیلاب — سے نمٹنے کی تیاری میں مدد ملے گی، اور طویل مدتی معاشی ترقی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ موسمیاتی ہم آہنگی رکھنے والے بنیادی ڈھانچے میں یہ سرمایہ کاری قدرتی آفات سے متعلق نقصانات کو ایک تہائی تک کم کر سکتی ہے، اور تیز رفتار بحالی کو ممکن بنا سکتی ہے۔

یہ قدم نہ صرف پاکستان کی ماحولیاتی پالیسی کو بین الاقوامی معیارات کے قریب لے جائے گا بلکہ شفافیت اور جوابدہی کے تقاضے بھی پورے کرے گا، جو عالمی مالیاتی اداروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔

Exit mobile version