Site icon Tashakur News

وسکونسن کی جج ہنا ڈوگن پر غیر قانونی تارک وطن کی گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام

26122822ea9910b

امریکی ریاست وسکونسن میں تعینات ایک مقامی جج ہنا ڈوگن کو وفاقی حکام نے اس وقت گرفتار کیا جب انہوں نے امیگریشن ایجنٹس کو عدالتی وارنٹ کے بغیر ایک غیر قانونی تارک وطن کو حراست میں لینے سے روکا۔ یہ واقعہ 18 اپریل کو ملواکی کاؤنٹی کی عدالت کے باہر پیش آیا جہاں امیگریشن ایجنٹس ایک شخص ایڈورڈو فلورس روئز کو گرفتار کرنے پہنچے تھے۔ جج ڈوگن نے مبینہ طور پر اس شخص کو عدالت کے مخصوص دروازے سے باہر نکلنے کی اجازت دی تاکہ وہ گرفتاری سے بچ سکے۔
پاکستان کا پانی، امن اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں دوٹوک پیغام

وفاقی شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب ایجنٹس نے عدالت میں مداخلت کی تو جج ڈوگن نے ان سے عدالتی وارنٹ کا مطالبہ کیا۔ ان کے پاس صرف ہوم لینڈ سیکیورٹی کا جاری کردہ انتظامی وارنٹ تھا۔ بعد ازاں ایجنٹس نے عدالت کے باہر فلورس روئز کو اس کے وکیل کے ساتھ جاتے ہوئے گرفتار کرلیا۔

جج ڈوگن کو سرکاری کارروائی میں مداخلت اور ایک فرد کو چھپانے کے الزامات کا سامنا ہے۔ انہیں عدالت میں پیش ہونے کے بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا، اور ان کی اگلی سماعت 15 مئی کو مقرر ہے۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ بھرپور دفاع کریں گی۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد جاری ہے، اور وفاقی حکام ریاستی عدالتوں میں مداخلت کے واقعات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ کسی جج کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔

ڈوگن کو پہلی بار 2016 میں جج منتخب کیا گیا تھا اور وہ ماضی میں پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے ادارے کی سربراہ رہ چکی ہیں۔ ان کے حمایتیوں نے ان کی گرفتاری کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے عدالت کے باہر احتجاج بھی کیا۔

ایک سابق وفاقی پراسیکیوٹر نے رائے دی کہ اگرچہ جج کو قانونی استثنیٰ حاصل نہیں، لیکن اس طرح کے کیسز میں احتیاط برتی جانی چاہیے، کیونکہ یہ امریکی وفاقی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

Exit mobile version