Site icon Tashakur News

کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ کے نتائج پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی، طلبہ کو اضافی مارکس دینے کی سفارش

1779429 SindhAssemblySessionAugcopy 1534105999

سندھ اسمبلی کی قائم کردہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی نے کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ کے امتحانات کے نتائج میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے طلبہ کو گریس مارکس دینے کی سفارش کر دی ہے۔

گورنر سندھ کا آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے ٹیلی فونک رابطہ

کمیٹی کے چیئرمین اور وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ پچھلے آٹھ برسوں سے بددیانتی کا مرتکب ہو رہا ہے، جسے اب روکا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فزکس میں 15 فیصد، کیمسٹری میں 20 فیصد، اور ریاضی میں 15 فیصد اضافی مارکس دیے جائیں گے تاکہ طلبہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ ہو سکے۔

این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی کی سربراہی میں ہونے والی انکوائری میں امتحانی طریقہ کار، اسیسمنٹ، اور مارکس شیٹ کے مراحل میں بے قاعدگیوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ سردار علی شاہ نے کہا کہ انکوائری کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ذمہ داران کی نشاندہی کرے اور ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی انٹر بورڈ مافیا کی طرح کام کر رہا ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم نے کمیٹی کی سفارشات وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ تعلیمی بورڈز میں اصلاحات کے لیے ایک مرکزی نظام بنانے کی ضرورت ہے۔

Exit mobile version