Site icon Tashakur News

سندھ ہائی کورٹ کا تفتیشی افسر کی گرفتاری کا حکم، کمسن بچی کے اغوا کیس میں اہم پیشرفت

28141923850f064

سندھ ہائی کورٹ میں کمسن بچی کے اغوا اور جبری شادی کیس کی سماعت کے دوران فاضل جج نے نکاح خواں اور گواہ کی عدم موجودگی پر سوال اٹھایا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا، جبکہ بچی کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش نہ کی جا سکی۔
معین خان: بھارتی کھلاڑیوں کے ساتھ پاکستانی کرکٹرز کا رویہ منفی پیغام دیتا ہے

عدالت نے غلط بیانی کرنے پر تفتیشی افسر کو حراست میں لینے کا حکم دیا، جس پر پولیس نے موقع پر ہی انہیں گرفتار کر لیا۔

کمسن بچی کے والدین نے عدالت کو بتایا کہ ان کی 15 سالہ بیٹی فرسٹ ایئر کی طالبہ ہے، جسے اغوا کرکے زبردستی شادی کی گئی۔ والدین نے پنوعاقل میں مقدمہ درج کرایا تھا، جبکہ لڑکی نے مقدمہ ختم کرنے اور تحفظ فراہم کرنے کی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔

واضح رہے کہ مئی 2024 میں لاہور ہائی کورٹ نے کم عمر لڑکیوں کے نکاح رجسٹر کرنے پر اہم فیصلہ جاری کیا تھا، جس میں نکاح رجسٹرار کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔ جسٹس انوار الحق نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ نکاح کے وقت دلہن کی عمر کے متعلق دستاویزات کی موجودگی لازم ہے، اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کم عمر بچوں کی شادیاں روکنے کے لیے اداروں کو مزید فعال ہونا پڑے گا، اور نکاح خواں یا نکاح رجسٹرار کی جانب سے عدالتی ہدایات پر عمل نہ کرنے پر ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے

Exit mobile version