کراچی: بیرون ملک روانگی کے لیے پروٹیکٹر اور امیگریشن کلیئرنس کے نام پر مبینہ رشوت طلب کرنے کا معاملہ سامنے آگیا۔ ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کردیں۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو جانے والے مسافر حسنین رسول کو مزید تحقیقات کے لیے آف لوڈ کردیا گیا۔
کلیئرنس کے نام پر رقم طے ہونے کا دعویٰ
ترجمان کے مطابق مسافر کی جانب سے بتایا گیا کہ پروٹیکٹر کلیئرنس کے لیے 50 ہزار روپے اور امیگریشن کلیئرنس کے لیے ایک لاکھ 35 ہزار روپے طلب کیے گئے۔
مسافر نے مبینہ طور پر 50 ہزار روپے بقر جمال کو ادا کرنے کا بیان دیا۔ اس نے بقر جمال کے نام پر بینک چیک بھی بطور ثبوت پیش کیا، جسے تحویل میں لے لیا گیا۔
مسافر کے مطابق معین نامی شخص نے ملازمت کی دستاویزات تیار کروائیں اور بقر جمال کا رابطہ نمبر فراہم کیا۔
سفری دستاویزات میں تضادات کی نشاندہی
ایف آئی اے کے مطابق مسافر کے امیگریشن ریکارڈ میں سابقہ ملک بدری اور مقررہ مدت سے زائد قیام کی تاریخ سامنے آئی ہے۔
بیرون ملک ملازمت کے معاہدے اور ویزا دستاویزات میں بھی مبینہ تضادات سامنے آئے ہیں۔
متعلقہ افراد اور عملے کے کردار کی تحقیقات
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق بقر جمال، معین اور متعلقہ پروٹیکٹر عملے کے کردار کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
مبینہ مالی لین دین اور پروٹیکٹر کلیئرنس کے معاملے کی تحقیقات اے ایچ ٹی سی کراچی کے سپرد کردی گئی ہیں۔
مسافر کا روانگی کا امیگریشن اسٹیمپ منسوخ کرکے ریکارڈ آئی بی ایم ایس میں درج کردیا گیا ہے۔ اصل پاسپورٹ، سفری و ملازمت کی دستاویزات اور چیک مزید کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کردیے گئے ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق بیرون ملک ملازمت اور کلیئرنس کے نام پر مبینہ مالی استحصال کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

