Site icon Tashakur News

نہر خیام کی طرز پر کراچی میں کچرا تلف کرنے کا نیا نظام: مراد علی شاہ نے جام چاکرو لینڈفل منصوبے کا افتتاح کردیا

Sindh Chief Minister Murad Ali Shah inaugurates the Jam Chakro landfill project to improve Karachi’s waste management system

Sindh Chief Minister Murad Ali Shah inaugurates the Jam Chakro engineered landfill project in Karachi.

سندھ حکومت نے شہر میں کچرا تلف کرنے کے نظام کو جدید بنانے کے لیے جام چاکرو میں صوبے کے پہلے سینیٹری انجینئرڈ لینڈفل منصوبے کا افتتاح کردیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ربن کاٹ کر منصوبے کا آغاز کیا۔

افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیر سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے لینڈفل کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا۔

وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور پروجیکٹ ڈائریکٹر عثمان معظم نے وزیراعلیٰ کو منصوبے پر بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد کراچی میں کچرا جمع کرنے، منتقل کرنے اور محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔

جام چاکرو لینڈفل منصوبہ عالمی بینک کی مالی معاونت سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ اس کی مجموعی لاگت 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔ عالمی بینک 10 کروڑ ڈالر فراہم کر رہا ہے، جبکہ سندھ حکومت 50 لاکھ ڈالر خرچ کرے گی۔

حکام نے بتایا کہ لینڈفل کے تین انجینئرڈ سیلز مکمل ہو چکے ہیں۔ تعمیراتی پیکج پر مجموعی پیش رفت 61.67 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ باقی تعمیراتی کام 30 نومبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

منصوبے میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے خصوصی لائننگ سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے کچرے سے نکلنے والے آلودہ مائع، یعنی لیچیٹ، کو جمع کرکے محفوظ طریقے سے سنبھالا جائے گا۔ کچرے کو سائنسی طریقے سے دبانے اور ڈھانپنے کا انتظام بھی ہوگا۔

وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ وزن اور ماحولیاتی نگرانی کے نظام سے آلودگی کے خطرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ مراد علی شاہ نے ویٹ برج کے آپریشنز اور روزانہ منتقل ہونے والے کچرے کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی۔ حکام کے مطابق انتظامی نگرانی اور جوابدہی بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام قائم کیا جائے گا۔

کراچی میں کچرا منتقل کرنے کے لیے چار ٹرانسفر اسٹیشنز بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ یہ اسٹیشنز شرافی گوٹھ، ڈنگا موڑ، امتیاز اور گٹر باغیچہ میں قائم ہوں گے۔ چاروں اسٹیشنز کی مجموعی یومیہ گنجائش 6,500 ٹن ہوگی۔

حکام کے مطابق شرافی گوٹھ ٹرانسفر اسٹیشن کا 71.43 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اسے 30 اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ امتیاز اسٹیشن کی تعمیر 62.82 فیصد اور گٹر باغیچہ اسٹیشن کی تعمیر 51.92 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ دونوں منصوبے 30 نومبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ڈنگا موڑ ٹرانسفر اسٹیشن پر اب تک 14.11 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔ اس کی تکمیل 30 مارچ 2027 تک متوقع ہے۔

منصوبے کے تحت ٹرانسفر اسٹیشنز پر جمع ہونے والا کچرا بڑی گاڑیوں کے ذریعے جام چاکرو لینڈفل پہنچایا جائے گا۔ حکام کے مطابق مخصوص نوعیت کا کچرا منظور شدہ طریقہ کار کے تحت مکمل انجینئرڈ سیلز میں ڈالا جائے گا۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا کے مطابق منصوبے کا مقصد کچرے کے انتظام کو بہتر بنانا اور ماحولیاتی آلودگی کے خطرات کم کرنا ہے۔

Exit mobile version