فرانس میں پرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے جزوی کرفیو کی ہدایت کردی۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امن و امان بحال کرنے کے لیے اقدامات تیز کردیے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وزیراعظم نے مقامی حکام سے مخصوص علاقوں میں جزوی کرفیو نافذ کرنے کو کہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تشدد روکنا اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
طلبہ کے احتجاج ملک گیر مظاہروں میں تبدیل
فرانس میں ستمبر کے وسط میں پیرس کے شمالی مضافات سے طلبہ کے احتجاج کا آغاز ہوا تھا۔ مظاہرین اساتذہ کی کمی اور اسکولوں کی خستہ حالی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔
بعد ازاں مظاہروں کا دائرہ ملک کے دیگر علاقوں تک پھیل گیا۔ مظاہرین نے مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، معاشی عدم مساوات اور عوامی خدمات کی خراب صورتحال پر بھی احتجاج کیا۔
ہفتے کے اختتام پر کئی شہروں میں مظاہروں کے دوران تشدد، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے ان واقعات کی مذمت کی اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔
پی ایس جی اور بارسلونا کا میچ شیڈول کے مطابق
فرانسیسی وزیراعظم نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال کے باوجود پیرس سینٹ جرمین اور بارسلونا کے درمیان فٹ بال میچ منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ مقابلہ طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگا۔
لیکورنو کے مطابق حکومت حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جاسکتے ہیں، جن میں ہنگامی حالت کا نفاذ بھی شامل ہے۔

