Site icon Tashakur News

سانحۂ کارساز: سعید غنی کی شہداء کی قبروں پر حاضری، تحقیقات اور عدالتی فیصلوں پر اظہارِ افسوس

Sindh Labour Minister Saeed Ghani and PPP leaders offering prayers at the graves of Karsaz tragedy martyrs.

Saeed Ghani and PPP leaders visit the graves of Karsaz tragedy martyrs in Karachi.

وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے سانحۂ کارساز کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اعظم بستی قبرستان میں سات شہداء کی قبروں پر حاضری دی۔ اس موقع پر انہوں نے فاتحہ خوانی بھی کی۔

پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر سید وقار مہدی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر سید نجمی عالم اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ پارٹی قیادت نے شہداء کو یاد رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہلخانہ سے رابطہ بھی برقرار رکھا جائے۔

سانحۂ کارساز کے شہداء کو یاد رکھنے کا عزم

سعید غنی نے کہا کہ سانحۂ کارساز میں شہید ہونے والوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ ان میں سے کئی کی عمریں 25 سال یا اس سے کم تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی ہر سال 18 اکتوبر کے شہداء کی قبروں پر حاضری دیتی ہے۔ پارٹی رہنما اور کارکن کارساز کے مقام پر بھی موجود رہتے ہیں۔

سانحۂ کارساز اور سانحۂ پنڈی سے متعلق مؤقف

صوبائی وزیر نے کہا کہ سانحۂ کارساز اور 27 دسمبر کا سانحۂ پنڈی ایک ہی سلسلے کی کڑیاں تھے۔ ان کے مطابق دونوں واقعات میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو نشانہ بنایا گیا۔

سعید غنی نے الزام عائد کیا کہ دونوں واقعات کے بعد جائے وقوعہ دھو دیا گیا۔ ان کے بقول، اس سے اہم شواہد جمع کرنے میں مشکلات پیدا ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ خودکش حملوں کی تحقیقات میں جائے وقوعہ کے شواہد اہم ہوتے ہیں۔ سعید غنی کے مطابق، اس وقت کی حکومت نے شواہد محفوظ نہیں کیے۔ ان کے بقول، جائے وقوعہ کو فوری طور پر دھو دیا گیا۔

تحقیقات اور عدالتی فیصلوں پر تحفظات

سعید غنی نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت آنے کے بعد دونوں سانحات کی تحقیقات کرائی گئیں۔ ان کے مطابق، اسکاٹ لینڈ اور اقوام متحدہ کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے بعد بعض افراد کے نام عدالتوں میں پیش کیے گئے۔ تاہم، عدالتوں نے ملزمان کو بری کردیا۔

سعید غنی نے عدالتی فیصلوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی ان فیصلوں کے خلاف دوبارہ عدالت سے رجوع کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان سانحات کا دکھ شہداء کے اہلخانہ سے زیادہ کسی کو نہیں ہوسکتا۔ ان کے مطابق، بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری بھی اس دکھ میں شریک ہیں۔

نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر گفتگو

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر سعید غنی نے اپنا مؤقف بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبے اور انتظامی یونٹس آئین و قانون کے مطابق بننے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں اور وفاق کے اختیارات اور وسائل کی تقسیم آئین میں واضح ہے۔

کنٹونمنٹ کے علاقوں کو میئر کے اختیار میں دینے سے متعلق سوال بھی کیا گیا۔ سعید غنی نے کہا کہ شہر کا کنٹرول میئر کے پاس ہونا چاہیے۔

وقار مہدی کا شہداء کو خراجِ عقیدت

سینیٹر سید وقار مہدی نے کہا کہ سانحۂ کارساز کو 19 سال گزر چکے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ کسی سیاسی جماعت کی ریلی پر ہونے والے بڑے حملوں میں سے ایک تھا۔

وقار مہدی نے دعویٰ کیا کہ سانحۂ کارساز میں 175 سے زائد نوجوان شہید ہوئے۔ ان کے مطابق، سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ سانحۂ کارساز اور سانحۂ پنڈی، دونوں مقامات پر جائے وقوعہ دھو دیا گیا تھا۔

Exit mobile version