Site icon Tashakur News

شہباز شریف کی پی ٹی آئی پر تنقید، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کو مجبوری قرار دے دیا

Prime Minister Shehbaz Sharif discussing Khyber Pakhtunkhwa emergency and political negotiations

Prime Minister Shehbaz Sharif speaks about the KP emergency and political negotiations in Gujranwala.

وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مجبوری قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعاون کی پیشکش کی تھی۔

گوجرانوالہ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے مرحوم بشیر محمود ورک کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بشیر محمود ورک کے ساتھ ان کا بھائیوں جیسا تعلق تھا۔ وہ ایک شفیق انسان تھے اور سیاست کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

بشیر محمود ورک کو خراجِ عقیدت

شہباز شریف نے کہا کہ بشیر محمود ورک کے ساتھ ان کے قریبی اور برادرانہ تعلقات تھے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی پر وزیراعظم کا مؤقف

وزیراعظم کے مطابق انہوں نے خیبرپختونخوا کے دونوں وزرائے اعلیٰ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ وفاق نے صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ تعاون کی پیشکش کے باوجود لانگ مارچ اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کے مطابق سیاسی محاذ آرائی نے معاملات کو مزید مشکل بنایا۔

پی ٹی آئی کے دھرنوں اور مذاکرات پر تنقید

وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے دھرنوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پورے ملک کا نظام مفلوج ہوجاتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال کے واقعات کا حوالہ بھی دیا۔

شہباز شریف نے الزام لگایا کہ اس بار بھی خون ریزی کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ کو دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنے کا کہا تھا۔

مذاکرات میں پیش رفت کیوں نہ ہوسکی؟

وزیراعظم کے مطابق مذاکرات کے دوران لانگ مارچ کی کال واپس لینے پر اتفاق ہوا تھا۔ تاہم، آخری وقت میں مسودہ منظور کرنے سے انکار کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی نے اختلافات ختم کرنے کے لیے رات بھر کوششیں کیں۔ اس کے باوجود معاملہ حل نہ ہوسکا۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کے بہترین مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا ہے۔ انہیں امید ہے کہ اس فیصلے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

Exit mobile version