کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ ضلع شرقی نے عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 2 روز کی توسیع کردی۔ اقرار الحسن کو ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے سے متعلق مقدمے میں این سی سی آئی اے نے عدالت میں پیش کیا۔
سماعت کے دوران وکیل صفائی نے اقرار الحسن کی گرفتاری کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ گرفتاری کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا اور نہ ہی راہداری ریمانڈ حاصل کیا گیا۔
وکیل صفائی کے دلائل
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر لاہور گئے ہی نہیں، اس کے باوجود وہاں سے گرفتاری کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقرار الحسن ایک معروف اینکر اور اب ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔ ان کے مطابق گورنر راج پر رائے دینا یا اسے غلط قرار دینا جرم نہیں ہے۔
وکیل صفائی نے متعلقہ ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس میں بیان کردہ رائے آئینی حدود کے اندر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی سیاسی رہنما کے جیل میں ہونے کا ذکر کرنا بذاتِ خود جرم نہیں۔
پاکستان سرحدوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا، جنرل عامر رضا
عدالت کا فیصلہ اور آئندہ سماعت
سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔ بعد ازاں عدالت نے اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع کردی اور وکلا کی درخواست مسترد کردی۔
عدالت نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر مقدمے کی تفتیش میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے۔

