وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چین کے دورے کے دوران شنگھائی کے میئر ژو ژونگ منگ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سندھ اور شنگھائی کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے روابط مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر آبپاشی و منصوبہ بندی جام خان شورو، وزیر زراعت محمد بخش مہر اور معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید شریک ہوئے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
کراچی اور شنگھائی کے درمیان سسٹر سٹی شراکت داری کی تجویز
مراد علی شاہ نے کراچی اور شنگھائی کے درمیان باضابطہ سسٹر سٹی تعلق قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں شہر بڑے تجارتی اور بندرگاہی مراکز ہیں۔ باہمی تعاون سے دونوں کو فائدہ ہوسکتا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سسٹر سٹی شراکت داری سے دونوں شہروں کے درمیان مستقل رابطے اور ادارہ جاتی تعاون بڑھے گا۔
انہوں نے شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو شہری خدمات بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔
مراد علی شاہ نے شنگھائی سے اسمارٹ سٹی منصوبہ بندی میں تجربات شیئر کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے عوامی ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل خدمات اور مربوط شہری منصوبہ بندی میں شنگھائی کے تجربے سے استفادے کی خواہش ظاہر کی۔
شنگھائی کے میئر ژو ژونگ منگ نے کراچی اور شنگھائی کے درمیان مجوزہ تعاون کا خیرمقدم کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کا ہواوے کے تحقیق و ترقی مرکز کا دورہ
مراد علی شاہ نے شنگھائی میں ہواوے کے لیان چیو لیک تحقیق و ترقی مرکز کا دورہ بھی کیا۔ انہیں جدید معلوماتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی پر جاری تحقیق کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ کے مطابق یہ مرکز ہواوے کا دنیا بھر میں سب سے بڑا تحقیق و ترقی کا کیمپس ہے۔ اس پر 10 ارب یوآن سے زائد سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ مرکز تقریباً 1,600 ہیکٹر رقبے پر محیط ہے۔
یہاں چِپس، وائرلیس نیٹ ورکس، 5G اور 6G ٹیکنالوجیز پر تحقیق جاری ہے۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز بھی تحقیق کے اہم شعبے ہیں۔
سندھ اور ہواوے کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کی پیشکش
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ ہواوے کے ساتھ طویل مدتی ٹیکنالوجی شراکت داری چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق تعاون صرف ٹیکنالوجی کی خریداری تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مشترکہ منصوبوں، تحقیق، تربیت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دیا۔ مراد علی شاہ نے ہواوے کو سندھ میں تحقیق و ترقی کی سہولیات اور ٹیکنالوجی لیبارٹریاں قائم کرنے کی دعوت دی۔
انہوں نے مجوزہ کراچی ایجوکیشن سٹی میں بھی ہواوے کو لیبارٹری قائم کرنے کی پیشکش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور ہواوے کے درمیان جدید ٹیکنالوجی میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
ڈیجیٹل حکمرانی اور سائبر سیکیورٹی میں تعاون
مراد علی شاہ کے مطابق سندھ حکومت پہلے ہی ڈیجیٹل حکمرانی کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ صوبائی ای پورٹل، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل تبدیلی اس ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
انہوں نے سندھ حکومت کے کلاؤڈ نظام کو ترقی دینے میں ہواوے کے تعاون کی تجویز پیش کی۔ ڈیٹا سینٹرز، ڈیزاسٹر ریکوری اور سائبر سیکیورٹی میں بھی شراکت داری کی خواہش ظاہر کی۔
وزیراعلیٰ نے مصنوعی ذہانت کے لیے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی ترقی میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں نوجوان آئی ٹی ماہرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ صوبہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے باصلاحیت افرادی قوت اور نئی منڈیوں کا مرکز بن سکتا ہے۔
مقامی تکنیکی صلاحیتوں کے فروغ پر زور
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ صرف بیرونی ٹیکنالوجی درآمد کرنے کے بجائے مقامی صلاحیتیں بھی بڑھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے تربیت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ نے ہواوے کو سندھ حکومت، جامعات اور ٹیکنالوجی اداروں کے ساتھ پائلٹ منصوبے شروع کرنے کی دعوت دی۔ ان کے مطابق اسمارٹ سٹی منصوبوں میں ڈیجیٹل عوامی خدمات، شہری انتظام اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا کے مطابق چین کے دورے کا مقصد سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی تعاون بڑھانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ شنگھائی اور ہواوے کے ساتھ شراکت داری کراچی کی ڈیجیٹل تبدیلی تیز کرسکتی ہے۔

