سندھ حکومت اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے درمیان اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد سندھ کو پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ڈیجیٹل صوبہ بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے دورۂ ہواوے کے دوران سرکاری امور کی ڈیجیٹلائزیشن پر بھی اتفاق کیا گیا۔ معاہدے کے تحت صوبائی کلاؤڈ نظام، ڈیٹا سینٹرز اور جدید ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کی ترقی میں تعاون ہوگا۔
اے آئی اور اسمارٹ سٹیز میں تعاون
معاہدے میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اسمارٹ سٹیز اور ڈیجیٹل گورنمنٹ کے شعبے شامل ہیں۔ سندھ حکومت اور ہواوے مصنوعی ذہانت پر مبنی اسمارٹ پارکس کے قیام میں بھی تعاون کریں گے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ٹیکنالوجی کی خریداری تک محدود رہنے کے بجائے اسے مشترکہ طور پر تیار کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کی تربیت کے ذریعے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے شراکت داری کے تحت قابلِ پیمائش نتائج حاصل کرنے کی ہدایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو جدید سہولتیں فراہم کرنا اہم ترجیح ہے۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط
مفاہمتی یادداشت پر وزیراعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید نے دستخط کیے۔ تقریب میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور ہواوے پاکستان کے چیئرمین بھی شریک ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تحقیق و ترقی کے شعبے میں ہواوے کی سرمایہ کاری کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل تحقیق اور جدت نے کمپنی کو عالمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں مقام دلایا ہے۔
ہواوے کی تحقیق و ترقی پر سرمایہ کاری
بریفنگ کے مطابق ہواوے کی بنیاد 1987 میں چین کے شہر شینزن میں رکھی گئی تھی۔ کمپنی مکمل طور پر اپنے ملازمین کی ملکیت ہے۔
بریفنگ میں ہواوے کی مالی اور تحقیقی کارکردگی کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے:
2025 میں آمدنی: 880.9 ارب چینی یوآن
2025 میں خالص منافع: 68 ارب چینی یوآن
تحقیق و ترقی پر اخراجات: 192.3 ارب چینی یوآن
آمدنی کا تحقیقی حصہ: 21.8 فیصد
گزشتہ دہائی کے دوران تحقیق و ترقی پر اخراجات: 1.38 ٹریلین چینی یوآن سے زیادہ
نوجوانوں کی ڈیجیٹل تربیت کا منصوبہ
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ایس آئی ایف سی اور ہواوے کے اقدام کے تحت 3 لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ووہان میں ہواوے کے عالمی ماڈل سائٹ کے اپنے سابقہ دورے کو بھی مفید قرار دیا۔
کراچی میں اسمارٹ گورننس متعارف کرانے پر زور
وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں جدید شہری انتظامی نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق دو کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے ڈیٹا پر مبنی اسمارٹ گورننس اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی شہری مسائل کی بروقت نشاندہی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔ سندھ حکومت کراچی میں ایسے نظام کے ذریعے شہری خدمات بہتر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

