کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن (سی آر اے) نے سینئر صحافی کاشف ہاشمی پر مبینہ پولیس تشدد کی مذمت کی ہے۔ کاشف ہاشمی سی آر اے کے سابق صدر بھی ہیں۔
ایسوسی ایشن کی پریس ریلیز کے مطابق کاشف ہاشمی گزشتہ شب ناظم آباد تھانے میں موجود تھے۔ وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے تھے۔ اسی دوران ضلع وسطی پولیس اور ایس آئی یو (سی آئی اے) کے اہلکاروں کے درمیان جھگڑا ہوا۔
سی آر اے کا الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں نے کاشف ہاشمی پر تشدد کیا۔ ان کے ساتھ بدسلوکی بھی کی گئی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اہلکاروں نے ان کا موبائل فون بھی توڑ دیا۔
ایس ایچ او کی موجودگی میں واقعہ پیش آنے کا الزام
سی آر اے کے مطابق واقعہ ایس ایچ او تھانہ شارع نورجہاں افتخار تنولی کی موجودگی میں پیش آیا۔ ایسوسی ایشن کا الزام ہے کہ انہوں نے تشدد روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔
سی آر اے کے عہدیداران نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسے آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا۔
پولیس حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ
کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن نے آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے واقعے کی تحقیقات پر بھی زور دیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے مبینہ تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس نے ایس ایچ او افتخار تنولی کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سی آر اے نے خبردار کیا کہ کارروائی نہ ہونے پر وہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔ پریس ریلیز کے مطابق اس صورت میں ذمہ داری متعلقہ پولیس حکام پر ہوگی۔

