Site icon Tashakur News

اقرار الحسن کا جسمانی ریمانڈ چیلنج، تفتیشی افسر کو نوٹس جاری

Iqrar ul Hassan case hearing at Karachi Sessions Court East

Iqrar ul Hassan’s physical remand order challenged in Karachi court.

سیشن عدالت شرقی میں اینکر اور عوام راج پارٹی کے سربراہ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کا حکم چیلنج کردیا گیا۔

اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق نے مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی۔ یہ مقدمہ ریاست مخالف مواد سے متعلق ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو کل کے لیے نوٹس جاری کردیا۔

جسمانی ریمانڈ کے فیصلے پر اعتراض

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مجسٹریٹ نے جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کی ٹھوس وجوہات بیان نہیں کیں۔ وکیل کے مطابق جسمانی ریمانڈ صرف غیر معمولی حالات میں دیا جانا چاہیے۔

چار موبائل فون اور ٹیبلٹ این سی سی آئی اے کے پاس

میاں علی اشفاق کے مطابق اقرار الحسن کے چار موبائل فون اور ایک ٹیبلٹ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی تحویل میں ہیں۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان آلات کے فرانزک تجزیے کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری نہیں۔ متعلقہ آلات پہلے ہی تحقیقاتی ادارے کے پاس موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ کے بغیر بھی فرانزک تجزیہ ممکن ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں سے معلومات حاصل کرنے کا عمل بھی جاری رکھا جاسکتا ہے۔

جسمانی ریمانڈ کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا

وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ جسمانی ریمانڈ کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔ انہوں نے این سی سی آئی اے کو جسمانی ریمانڈ کے بغیر تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست بھی کی۔

میاں علی اشفاق کے مطابق سوشل میڈیا پوسٹ کی بنیاد پر کسی صحافی کو جسمانی ریمانڈ پر بھیجنا آزادی اظہار پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

عدالت نے درخواست پر تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کردیا۔ معاملے پر مزید کارروائی آئندہ سماعت میں ہوگی۔

Exit mobile version