وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کیے گئے اقدامات آئین کے مطابق ہیں۔ ان کے مطابق گورنر راج یا ایمرجنسی کے معاملے پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے آئینی شقوں کا جائزہ لیا تھا۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا۔ ان کے بقول اس عمل میں کسی آئینی خلاف ورزی سے بچنے پر غور کیا گیا۔
آئینی اقدام کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی کی پیشکش
محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پیشکش کی کہ اس معاملے پر کمیٹی بنائی جائے۔
ان کے مطابق کمیٹی جائزہ لے سکتی ہے کہ اس اقدام سے آئین کی کس شق کی خلاف ورزی ہوئی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کیا۔
انہوں نے سیاسی اختلافات کے باوجود تحمل اور مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
دہشت گردی کے معاملے پر مذاکرات
وزیر داخلہ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں مذاکرات کا آغاز دہشت گردی کے مسئلے سے ہوا تھا۔ ان کے مطابق ابتدائی سات سے آٹھ نکات اسی معاملے سے متعلق تھے۔
محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ان کے مطابق اسد قیصر نے خیبرپختونخوا حکومت سے بات کرنے کی ذمہ داری بھی لی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں سیاسی معاملات پر گفتگو ہوئی۔ ان کے مطابق 24 نومبر کو بھی ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا آپشن موجود تھا۔
احتجاج سے پہلے رابطوں کا ذکر
محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے احتجاج سے پہلے پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطے کیے۔ ان کے مطابق انہوں نے بیرسٹر گوہر سے مجوزہ معاہدے کے ایک پیراگراف میں تبدیلیوں پر بھی بات کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ پشاور میں سیکیورٹی اہلکار جانیں قربان کریں اور صوبائی اسمبلی کے نمائندے موجود نہ ہوں۔
انہوں نے 25 نومبر کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے احتجاج کے لیے جگہ دینے کی پیشکش کی تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے فون پر بانی سے بات کرانے کا مطالبہ کیا۔
محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے فون پر بات کرائی گئی۔ تاہم، ان کے بقول پارٹی کے بعض رہنماؤں نے اس پر اتفاق نہیں کیا اور ویڈیو پیغام جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
وزیر داخلہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے فوری ویڈیو پیغام ریکارڈ کرانے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود انہوں نے رات پونے بارہ بجے تک رابطے جاری رکھے۔
اسد قیصر سے متعلق دعویٰ
محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے آخری دور میں اسد قیصر نے دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق کیا تھا۔ ان کے مطابق اسد قیصر نے ایمرجنسی کی صورت میں حمایت کا عندیہ بھی دیا تھا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ تجاویز چھ مختلف مسودوں کے ذریعے بھیجی گئیں۔ حتمی مسودہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو بھیجا گیا۔ ان کے دعوے کے مطابق وزیراعلیٰ نے اسے مراد سعید کو بھیجا، جس کے بعد معاملات خراب ہوگئے۔
دہشت گردی اور افغانستان سے متعلق مؤقف
محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ آسان فیصلہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق حکومت بھی یہ اقدام نہیں چاہتی تھی، لیکن حالات کے باعث اسے ضروری سمجھا گیا۔
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی میں ملوث 80 فیصد افراد افغانستان سے آ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پی ٹی آئی حکومت کے بعض افراد کے طالبان سے رابطے تھے۔
ان کے مطابق حکومت کے پاس ان رابطوں اور مالی معاملات سے متعلق شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر یہ شواہد فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
دہشت گردی کے خاتمے کا عزم
محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلنے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ وزیر داخلہ نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صفوں میں موجود مسائل کا جائزہ لیں۔

