Site icon Tashakur News

خیبرپختونخوا ایمرجنسی دھرنے سے مسئلہ نہیں، دہشت گردی اصل تشویش ہے، محسن نقوی

Interior Minister Mohsin Naqvi, Law Minister Azam Nazeer Tarar and Information Minister Attaullah Tarar address a press conference in Islamabad

Federal ministers brief the media on emergency measures in Khyber Pakhtunkhwa

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت کو دھرنے سے مسئلہ نہیں۔ ان کے مطابق اصل تشویش خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے ایک ماہ تک صوبائی حکومت سے رابطے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران کئی تجاویز پر بات ہوئی۔ تاہم، ان کے بقول آخری وقت تک اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

دھرنا مؤخر کرنے کی شرط پیپلز پارٹی کی تھی

محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے کبھی دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق دھرنا مؤخر کرنے کی شرط پیپلز پارٹی نے رکھی تھی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کا مسئلہ دہشت گردی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع میں شام کے بعد لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں دہشت گردی اور پولیس کی استعداد بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔

محسن نقوی کے مطابق صوبائی حکومت نے مالی وسائل کی کمی کا معاملہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اس سلسلے میں مدد دینے کے لیے تیار تھی۔

دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر زور

وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اکیلے نہیں لڑی جاسکتی۔ اس کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں 518 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ ان کے مطابق حکومت نے آخری وقت تک اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔

محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کی صورت حال کے باعث وفاقی حکومت کو سخت فیصلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے گورنر راج کے نفاذ کو اسی پس منظر میں بیان کیا۔

اعظم نذیر تارڑ: آئینی اختیارات استعمال کیے گئے

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے صدر مملکت کو صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔ ان کے مطابق گورنر نے بھی اپنی رپورٹ وفاق کو بھجوائی۔

اعظم نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈھائی سال میں دہشت گردی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں، پولیس اور دینی رہنماؤں پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔

وزیر قانون کے مطابق صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کو منتقل کیے گئے ہیں۔ انتظامی امور چلانے کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

12 اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ یہ سیکریٹریٹ براہ راست وفاق کو رپورٹ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری متعلقہ کونسل کے امور سنبھالیں گے۔ وزیر قانون کے مطابق آئینی عہدوں سے متعلق اختیارات بھی نئے انتظامی بندوبست کے تحت منتقل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج بھی تعینات کی گئی ہے۔

عطا اللہ تارڑ کے صوبائی حکومت پر الزامات

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گردوں کے ساتھ اتحاد کے الزامات عائد کیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انٹیلی جنس بیورو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبے کی صورت حال پر رپورٹس پیش کیں۔ ان کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی حملوں کا سامنا رہا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔

Exit mobile version